
نئی دہلی، 13 جولائی (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ معاملہ میں الفلاح یونیورسٹی کے بانی جواد احمد صدیقی کی اپنی بیوی کی طبی دیکھ بھال کی درخواست پر عبوری ضمانت کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس سور بھ بنرجی کی سربراہی والی بنچ نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
واضح رہے کہ 9 جون کو ساکیت کورٹ نے جواد احمد صدیقی کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی۔ سا کیت کورٹ کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ جواد احمد صدیقی نے اپنی اہلیہ کی دیکھ بھا ل کے لیے چھ ہفتوں کی عبوری ضمانت مانگی تھی، جو کہ اسٹیج فور کینسر میں مبتلا اور زیرعلاج ہیں۔ ساکیت کورٹ نے کہا کہ ملزم کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کی بیوی کی حالت مستحکم ہے اور وہ ایسی حالت میں نہیں ہے جو انہیں اپنے طور پر روزمرہ کے کام کرنے سے روکے۔ ساکیت کورٹ نے کہا کہ اگر والدین بیمار پڑ جاتے ہیں تو بالغ بچوں سے ان کی دیکھ بھال کی توقع کی جاتی ہے۔
جواد احمد صدیقی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 18 نومبر 2025 کو گرفتار کیا تھا۔ فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی لال قلعہ کے بم دھماکوں کے بعد سے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ریڈار پر تھی۔ اس معاملے میں گرفتار تین ڈاکٹروں کا الفلاح یونیورسٹی سے تعلق پایا گیا، جس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ای ڈی نے جاوید کو دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
ای ڈی نے 16 جنوری کو جواد احمد صدیقی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ای ڈی نے دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی طرف سے درج دو ایف آئی آر کے بعد اپنی جانچ شروع کی۔ ایف آئی آرز میں کہا گیا ہے کہ الفلاح یونیورسٹی نے جھوٹی اطلاع دی کہ اس نے نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (این اے اے سی) سے ایکریڈیشن حاصل کیا ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ اس نے اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت الفلاح یونیورسٹی کے اثاثوں کو غیر رسمی طور پر ضبط کر لیا ہے۔
10 نومبر 2025 کو لال قلعہ کے قریب ایک آئی-10 کار میں دھماکہ ہوا۔ گاڑی عامر راشد علی کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ یو جی سی نے الفلاح یونیورسٹی کے خلاف شکایت درج کرائی جس کے بعد کرائم برانچ نے جاوید احمد صدیقی کو گرفتار کر لیا۔ یو جی سی کی شکایت کے بعد دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جواد احمد صدیقی کے خلاف دو ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر لیاتھا۔
No Comments: