
نئی دہلی، 25 مئی (میرا وطن نیوز )
دہلی کی راو ¿ز ایونیو کورٹ نے کانگریس لیڈر الکا لامبا کو خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے اور 2024 میں جنتر منتر پر احتجاج کرنے کا مجرم قرار دیا۔ ایڈیشنل چیف جو ڈیشل مجسٹریٹ اشونی پنوار نے الکا لامبا کی سزا کی مدت پر 5 جون کو سماعت کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے 4 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ 14 جنوری کو عدالت نے اس معاملے میں الکا لامبا کے خلاف الزاما ت طے کرنے کا باضابطہ حکم دیاتھا۔
عدالت نے لامبا کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 132، 221، 233اے اور 285 کے تحت الزاما ت طے کیے۔ 20 دسمبر 2025 کو عدالت نے واقعے کی ویڈیو دیکھی اور پایا کہ وہ ایک سرکاری ملازم کو اس کے فرائض کی انجام دہی سے زبردستی روک رہی ہے۔ وہ رکاوٹیں عبور کرکے مظاہرین کو بھڑکا ر ہی تھی۔ 20 اگست 2025 کو عدالت نے دہلی پولیس کی چارج شیٹ کا نوٹس لیا اور لامبا کو سمن جا ری کیا۔ عدالت نے تعزیرات ہند کی دفعہ 221، 223 (اے)، 132 اور 285 کے تحت نوٹس لیا۔
اس معاملہ میں 29 جولائی 2024 کو جنتر منتر پر خواتین کے ریزرویشن کے لیے مہیلا کانگریس کا احتجا ج شامل تھا۔ الکا لامبا اس احتجاج میں مرکزی مقرر تھیں۔ دہلی پولیس نے انڈین سول سیکورٹی کوڈ کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی حکم جاری کیا تھا۔ الکا لامبا پر امتناعی حکم کی خلاف ورزی کرنے اور تقریباً ڈیڑھ بجے، ٹالسٹائی مارگ پر بیریکیڈ پر دوسرے مظاہرین میں شامل ہونے اور نعرے لگانے کا الزام ہے۔ وہ پارلیمنٹ کا گھیراو ¿ کرنے پر بضد تھے۔ جائے وقوعہ پر موجود سینئر پولیس افسران نے مظاہرین کو لاو ¿ڈ اسپیکر کے ذریعے حکم امتناعی کی اطلاع دی اور انہیں احتجاج ختم کرنے کی تنبیہ کی۔
دہلی پولیس کے مطابق، الکا لامبا اور ان کے حامیوں نے مرد اور خواتین پولیس افسران کو دھکا دیا، رکاو ٹیں عبور کیں اور کچھ مظاہرین نے پارلیمنٹ اسٹریٹ کو بلاک کردیا۔ پولیس کی طرف سے انہیں منا نے کی بارہا کوششوں کے باوجود، الکا لامبا اور دیگر حامیوں نے جانے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ اس کے بعد سب انسپکٹر انیتا سنگھ کے بیان کی بنیاد پر الکا لامبا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
ادھر پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کی قومی خاتون صدر الکا لامبا نے کہا کہ یہ ان کے سیاسی کیرئیر کا پہلا کیس ہے جس کے نتیجے میں ایف آئی آر، چارج شیٹ اور اب سزا ہوئی ہے، لیکن وہ کسی سزا سے نہیں ڈرتیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے بات کرنا اقتدار میں رہنے والوں کے لیے ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ وہ کسی سزا سے باز نہیں آئیںگی۔ اگر خواتین کی حفاظت اور ریزرو یشن کے لیے بات کرنا جرم ہے تو وہ بار بار اس کا ارتکاب کریں گی۔
No Comments: