Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

جماعت اسلامی ہند شعبہ خواتین کے زیر اہتمام ماحولیاتی بحران پر قومی مباحثہ کا انعقاد

ٍمختلف ریاستوں میں تنظیم کی ذمے دار خواتین مقررین نے کیاقومی مباحثہ سے خطاب

نئی دہلی،5جون (میرا وطن نیوز )
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جماعت اسلامی ہند کے شعبہ خواتین کی جانب سے ’ماحولیاتی بحران: اخلا قی ذمہ داریوں کا امتحان‘کے عنوان سے ایک آن لائن قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ماہرین ماحولیات، اساتذہ کرام، سماجی کارکنان اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنان نے شرکت کی۔ مباحثے میں انسانیت کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے اخلاقی ذمہ داریوں پر تبادلہءخیال کیا گیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں جماعت اسلامی ہند کی قومی سیکریٹری رحمت النساءاے نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ بنیادی طور پر ایک اخلاقی اور روحانی فریضہ ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے اس مشہور قول کا حوالہ دیا کہ ”زمین ہر انسان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی وسائل فراہم کرتی ہے، لیکن ہر انسا ن کی لالچ پوری کرنے کے لیے نہیں ہے۔“ انہوں نے ماحولیات کو ایک ’امانت‘ قرار دیا جو قدرت کی طرف سے انسانوں کو سپرد کی گئی ہے۔
اسلام کے تصورِ خلافت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان زمین پر اللہ کا نائب ہے اور اسے زمین پر توازن اور انصاف کو برقرار رکھنے کا جواب دہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تباہی سماجی انصاف کا بھی مسئلہ ہے، کیونکہ مراعات یافتہ طبقے کی حد سے زیادہ کھپت کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے۔
پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے رحمت النسا اے نے ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اپنا نے، قدرتی وسائل تک سب کی پہنچ اور منصفانہ طریقے سے سب کے لئے زمین کو قابلِ رہائش بنانے کی اپیل کی۔
افتتاحی خطاب میں جماعت اسلامی ہند کی قومی اسسٹنٹ سیکریٹری سمیہ مریم نے ماحولیاتی بحران سب کے لئے ایک ”اخلاقی آئینہ“ قرار دیا جو موجودہ معاشرے کی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں آنے والے حالیہ سیلاب اور کینیڈا میں لگنے والی تباہ کن جنگلاتی آگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بگاڑ کا تعلق انسانی رویوں اور غیر پائیدار طرزِ زندگی سے ہے۔ انہوں نے سائنسی اور تکنیکی اقدامات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا حل کے لیے اخلاقی شعور اور انسانی رویّوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
کیرالہ سے تعلق رکھنے والی سماجی بشریات کی ماہر ڈاکٹر منجو جے منوج نے موسمیاتی تبدیلیوں کے کمزور اور پسماندہ طبقات، بالخصوص ماہی گیری اور جنگلاتی وسائل پر انحصار کرنے والی برادریوں پر پڑنے والے منفی اثرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بحران اکثر پہلے سے موجود سماجی اور معاشی ناہمواریوں میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔
مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے معروف موسمیاتی محقق چترا گنگوانی نے چھوٹے شہروں اور قصبوں کو در پیش بڑھتے ہوئے چیلنجز، خاص طور پر پانی کی قلت، موسمیاتی آفات اور ناکافی بحالی کے نظام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ٹئیر-2 اور ٹئیر-3 شہروں میں موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے مضبوط مالی اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
گوا سے تعلق رکھنے والی ماہرِ ماحولیات اور آرکیٹیکٹ تلولا ڈی سلوا نے ترقی کے ان مروجہ ماڈلز پر تنقید کی جو سیمنٹ اور کنکریٹ کے بیجا استعمال کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے پائیدار اور فطرت دوست تعمیراتی طریقوں پر زور دیتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ تعمیراتی روایات کو فروغ دینے کی بات کہی۔ انہوں نے حد سے زیادہ کھپت کو ”نسل در نسل نوآبادیات“ قرار دیا جو آنے والی نسلوں کے حقوق اور ان کی ترقی کو متاثر کر رہی ہے۔
احمد آباد کی سماجی کارکن اور رینگنے والے جانوروں کی محافظ سمیہ حسیب شیخ نے علامتی ماحولیاتی مہم اور تشہیری سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر حقیقی عوامی رابطوں اور پائیدار تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کی تائید کرتے ہوئے چھتیس گڑھ کی معلمہ فخرہ تبسم نے ابتدائی سطح پر موسمیاتی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ کچرے کی درجہ بندی، وسائل کے تحفظ اور شجرکاری جیسی روزمرہ کی عادتیں پائیدار تبدیلی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
سمپوزیم کا اختتام ’سبز ضمیر‘ (Green Conscience) کی تشکیل کے پرزور مطالبے کے ساتھ ہوا، جو اخلاقی اقدار، ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اور اجتماعی عمل پر مبنی ہو۔ مقررین نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ماحولیات کا تحفظ صرف ترقیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *