Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

پیرزادہ رئیس میاں چشتیؒ کے وصال پر صوفی دنیا سوگوار، تعزیت کا سلسلہ جاری

اکھلیش یادو، سابق شاہی امام جامع مسجد دہلی سید احمد بخاری ، موروثی سجادہ نشین اجمیر شریف حضرت سید زین العابدین علی خان سمیت سیاسی، مذہبی، سماجی اور صوفی شخصیات کا اظہارِ تعزیت، پیرزادہ ارشد فریدی چشتی کی رسمِ دستاربندی روحانی روایات کے مطابق ادا

فتح پور سیکری، 13 جولائی: عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ رئیس میاں چشتیؒ کے وصال کے بعد درگاہ شریف میں تعزیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملک بھر سے مذہبی، سیاسی، سماجی، روحانی اور صوفی شخصیات کے علاوہ ہزاروں عقیدت مند درگاہ پہنچ کر مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ درگاہ کا ماحول سوگ، عقیدت اور دعاؤں سے معمور ہے، جہاں مرحوم کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ اتر پردیش اکھلیش یادو نے حضرت رئیس میاں چشتیؒ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی محبت، رواداری، بھائی چارے اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے وقف رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا انتقال صرف صوفی دنیا ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور روحانی ورثے کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔

دوسری جانب، درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ میں روحانی روایت کے مطابق پیرزادہ ارشد فریدی چشتی کی رسمِ دستاربندی نہایت وقار، روحانی فضا اور صوفیانہ روایات کے مطابق انجام دی گئی۔ اس موقع پر آستانۂ عالیہ قادریہ کے سجادہ نشین حضرت سنوان قادری، خانقاہ فریدیہ حیدرآباد کے سجادہ نشین حضرت شجاع الدین شاہد فریدی اور دیگر معزز صوفیائے کرام موجود تھے۔ تقریب کے دوران نئے سجادہ نشین کے حق میں خصوصی دعائیں کی گئیں اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ وہ اپنے اسلاف کی روحانی، دینی اور سماجی خدمات کے عظیم سلسلے کو اسی وقار، اخلاص اور صوفیانہ روایات کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔

اس موقع پر مختلف خانقاہوں کے سجادگان، مذہبی قائدین اور سماجی شخصیات نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت رئیس میاں چشتیؒ نے اپنی پوری زندگی درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی روحانی روایات، بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور انسان دوستی کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی شخصیت محبت، انکساری، اعلیٰ اخلاق اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ تھی، جس کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

سابق شاہی امام جامع مسجد دہلی سید احمد بخاری نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ پیرزادہ رئیس میاں چشتیؒ کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ، اجمیر شریف کے موروثی سجادہ نشین حضرت سید زین العابدین علی خان اور صاحبزادہ سید محمد علی حمزہ میاں چشتی، جانشین خانقاہِ عالیہ چشتیہ حلیمیہ محبوب منزل و صدر زاویۂ چشتی فاؤنڈیشن، اجمیر شریف نے اپنے مشترکہ تعزیتی پیغام میں حضرت رئیس میاں کے انتقال کو دینی، روحانی اور خانقاہی دنیا کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک باوقار دینی، روحانی اور سماجی شخصیت تھے جنہوں نے تصوف، خدمتِ خلق اور خانقاہی روایات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ درگاہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی انتظامی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

صاحبزادہ سید محمد علی حمزہ میاں چشتی نے کہا کہ رئیس میاں صاحب کا خانقاہِ محبوب منزل، اجمیر شریف سے تعلق محض رسمی نہیں بلکہ محبت، اخلاص اور روحانی وابستگی پر مبنی تھا۔ حضرت تہذیبِ ملت سید حلیم میاں چشتی نے ان کی تنظیمی صلاحیتوں، حسنِ انتظام اور خانقاہی مزاج کو دیکھتے ہوئے انہیں خانقاہ کے سالانہ سیمینار کی نظامت کی ذمہ داری سونپی تھی، جبکہ بعد ازاں انہیں “رئیسُ النِّظامت” کے باوقار لقب سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اس ذمہ داری کو ہمیشہ دیانت، وقار اور اخلاص کے ساتھ نبھایا۔

جامعہ المصطفیٰ، قصبہ ککرالہ، ضلع بدایوں کے خادمِ درس و افتاء مولانا فہیم احمد ثقلینی ازہری نے کہا کہ حضرت رئیس میاں چشتیؒ کے وصال کی خبر نے اہلِ تصوف اور وابستگانِ سلسلۂ چشتیہ کو گہرے رنج میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم چشتی روایات کے امین، صوفیانہ افکار کے داعی اور اخلاق و محبت کے عملی ترجمان تھے۔ ان کی متانتِ گفتار، خوش اخلاقی اور شفقت کی یادیں ہمیشہ اہلِ تعلق کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ اور خانوادۂ چشتیہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

اتراکھنڈ ریاستی حج کمیٹی اور محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود حکومتِ اتراکھنڈ کے رکن مفتی محمد منان رضا نے کہا کہ حضرت رئیس میاں کا وصال نہ صرف خانقاہِ چشتیہ بلکہ پورے ملک کے روحانی، دینی اور صوفی حلقوں کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے طویل عرصہ تک سلسلۂ چشتیہ کی روایات، محبت، اخوت، امن اور انسان دوستی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔

آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل اور درگاہ میر قربان علی، جے پور کے سجادہ نشین ڈاکٹر حبیب الرحمن نیازی نے کہا کہ حضرت رئیس میاں چشتیؒ کے انتقال سے نہ صرف ذاتی بلکہ کونسل کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک باعمل صوفی بزرگ، مدبر منتظم، قومی و سماجی شخصیت اور بہترین میزبان تھے، جنہوں نے خانقاہی نظام کو مضبوط بنانے اور قدیم روایات کے تحفظ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ المعروف موتیاں والی سرکار صابری چشتی قادری قلندری نے کہا کہ پیرزادہ رئیس میاں چشتیؒ کا وصال نہ صرف خانوادۂ چشتیہ بلکہ پوری صوفی برادری کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ انہوں نے مرحوم کی دینی و روحانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔

بھارتیہ کسان یونین کے صدر اور رکنِ پارلیمنٹ راج کمار چاہر درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ پہنچ کر حضرت رئیس میاں چشتیؒ کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت رئیس میاں چشتیؒ کی رحلت سے صوفی دنیا ایک مدبر، باوقار اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے محبت، اخوت، رواداری اور انسان دوستی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، جسے ہمیشہ قدر و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

اولیاء کونسل آف نارتھ امریکہ کے صدر ڈاکٹر مہدی کاظمی، نیویارک نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت رئیس میاں چشتیؒ کا وصال عالمِ تصوف کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے محبت، امن، رواداری اور خدمتِ خلق کے صوفیانہ پیغام کو عالمی سطح پر فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور خانوادۂ چشتیہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔

اس دوران سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ پر بھی تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک و بیرونِ ملک سے وابستگانِ تصوف، علماء، مشائخ، سماجی و سیاسی شخصیات اور عقیدت مند مرحوم کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کر رہے ہیں۔

تعزیت پیش کرنے والوں میں رکنِ پارلیمنٹ (لوک سبھا) محب اللہ ندوی، رکنِ پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) رام جی لال سمن، مختلف ریاستوں کے اعلیٰ افسران، بیوروکریٹس، جج صاحبان، مذہبی و سماجی رہنما، صوفی مشائخ اور دیگر ممتاز شخصیات شامل ہیں، جنہوں نے درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ پہنچ کر مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ پیرزادہ رئیس میاں چشتیؒ کو 9 جولائی بروز جمعرات نمازِ بعد نماز عصر درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے احاطۂ مبارک میں ہزاروں اشک بار عقیدت مندوں کی موجودگی میں سپردِ خاک کیا گیا تھا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *