
نئی دہلی، 18 جولائی (میرا وطن نیوز)
دہلی کی پٹیالہ ہا ¶س کورٹ نے کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان معراج کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ایک کیس میں ضمانت دے دی ہے ۔ پرنسپل اینڈ سیشن جج پیتامبر دت نے ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا۔
ضمانت کے اس حکم کے بعد خرم پرویز کی رہائی کا راستہ صاف ہوگیاہے۔ اس سے قبل خرم پرویز کو دہلی ہائی کورٹ نے دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں ضمانت دی تھی۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی میں تعطیلاتی بنچ نے نوٹ کیا کہ خرم پرویز چار سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ہیں اور مقدمے کی سماعت جلد مکمل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ خرم پرویز 2004 میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں اپنی ٹانگ گنوادی تھی۔ وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں اور انہیں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ہائی کورٹ نے خرم پرویز کو حکم دیا کہ وہ اپنا پاسپورٹ سرنڈر کریں اور عدالتی اجازت کے بغیر دہلی سے باہر سفر نہ کریں۔ ہائی کورٹ نے خرم پرویز کو کیس سے متعلق عوامی بیانات نہ دینے کا بھی حکم دیا۔
خرم پرویز جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ غیر رضاکارانہ گمشدگیوں کے چیئرپرسن ہیں۔ انہیں 22 نومبر 2021 کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے گرفتار کیا تھا۔این آئی اے کے مطابق خرم پرویز نے بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے انسانی حقوق کے کارکن کی آڑ میں لشکر طیبہ کے ایک رکن کے ساتھ اوور گرا ¶نڈ کارکنوں کا نیٹ ورک چلایا تھا۔
این آئی اے نے نومبر 2021 میں اس معاملے میں ایک کیس درج کیا تھا۔ این اے آئی کے مطابق، پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے خرم پرویز، منیر احمد کٹاریا، ارشد احمد ٹونچ اور ظفر عباس کے ساتھ مل کر لشکر طیبہ کی سرگرمیوں کو مزید بڑھانے اور ہندوستان میں دہشت گردی کے واقعات کے لیے ایک نیٹ ورک چلانے کی سازش کی۔ ملزم نے سیکورٹی فورسز کی اہم تنصیبات، تعیناتیوں اور نقل و حرکت کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور اسے لشکر طیبہ تک پہنچایا۔ مزید برآں، ہماچل پردیش کے ایک سرکاری اہلکار نے انہیں دستاویزات فراہم کرنے کے لیے اپنی سرکاری حیثیت کا غلط استعمال کیا۔
No Comments: