Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

نفرت کی آندھیوںمیںہم محبت کے چراغ جلاناچاہتے ہیں

ہم نہ الیکشن لڑتے ہیں اورنہ لڑاتے ہیں ، ہم توفرقہ پرستی کے اس ماحول کوبدلناچاہتے ہیں :مولانا ارشدمدنی

افسوس تویہ ہے کہ جمہوریت کو راستہ دکھانے والا دانشورطبقہ خاموش ہے :اندراجے سنگھ
ملک میں ہورہی ناانصافی کے خلاف اب سب کو بولنا ہوگا:ڈاکٹربشمبھرناتھ مشرا
لکھنومیںجمعیةعلماءاترپردیش کے زیراہتمام منعقد ہندومسلم اتحادکانفرنس سے ملک کی ممتاز مذہبی شخصیتوںاوردانشوروںکا خطاب

لکھنو ¿،18جولائی (میرا وطن نیوز)
آج یہاں لکھنوکے اٹل بہاری باجپئی سائنٹفک کنونشن سینٹرمیں جمعیةعلماءاترپردیش کے زیراہتمام منعقد ہندومسلم اتحادکانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جمعیةعلماءہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی وسماجی حالات پر اپنی گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ پہلے مسلمان ہی فرقہ پرستوںکے نشانہ پر تھے مگر پچھلے کچھ برسوںمیں نفرت کی جو سیاست ہوئی ہے اس سے مسلمان اوراسلام دونوںفرقہ پرستوںکے نشانہ پرآچکے ہیں ، نفرت کی اس سیاست نے ملک کو ایک ایسے دوہرائے پر لاکر کھڑاکردیاہے جہاںسے آگے کاکوئی راستہ نظرنہیں آتا۔
انہوںنے کہا کہ ہمیں اس ماحول کو بدلنا ہوگااوراس کے لئے ہر سطح پر عملی کوششیں کرنی ہوںگی ، آج کا یہ اجلاس ایک تحریک کے طورپر جمعیةعلماءہند ن شروع کیاہے اوریہ اس سلسلہ کا پہلااجلاس ہے ، یہ تبدیلی تب تک نہیں آئے گی جب تک کہ ہم دوسرے مذاہب کے ہم خیال لوگوںکو ایک ساتھ لاکر فرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف آواز نہیں بلند کریںگے ، کام مشکل ضرورہے مگر ناممکن نہیں ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ نفرت کی ان تیزآندھیوںمیں جمعیةعلماءہند محبت کے چراغ روشن کرنے چلی ہے ، اس مہم میں آپ بھی شامل ہیں اورملک کا ہر انصاف پسند شہری بھی ، انہوںنے آگے کہا کہ حالات دھماکہ خیزضرورہے ، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے کرداروعمل سے اس مایوسی کو امید میں بدلنے کی کوشش کریں ۔ انہوںنے تاریخ کے صفحات پلٹتے ہو ئے کہا کہ جب انگریزوںکا ملک پر پوری طرح تسلط ہوگیا تواس کے خلاف پہلی آوازدہلی کے ایک مدرسہ سے اٹھی تھی ، یہ آوازعبدالعزیزمحدث دھلویؒ کی تھی۔
انہو ں نے اس وقت کہا تھا کہ اب ملک غلام ہوگیا ہے اس لئے انگریزوںکے خلاف جنگ کرنا ہر مسلمان او رہندوستانی شہری کا فرض ہے ، اس کی پاداش میں ان پر ظلم کے پہاڑتوڑے گئے ان کے مدرسہ کو ڈھا دیاگیا ، لیکن انگریز ان کی آوازکو ختم نہیںکرسکے ، اسی کے نتیجہ میں1832 اور 1857کی جنگیں ہو ئیں جس میں ہزاروںعلماءمارے گئے ، وہ بظاہر انگریزوںکے خلاف ناکام رہے لیکن پھر دنیانے د یکھاکہ اس آوازمیں لاکھوںآوازیں شامل ہوگئیں ، یہاں تک کہ انگریزوںکوملک چھوڑکر بھاگنا پڑا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس اجلاس سے آج فرقہ پرستی اورنفرت کے خلاف جوآوازاٹھی ہے نہ تواسے کوئی طاقت دباسکتی ہے اورنہ ہی کمزورکرسکتی ہے ، ایک دن اس آوازمیں بھی لاکھوںکڑوروںآوازیں شامل ہوںگی اورہم ملک سے فرقہ پرستی اورنفرت کو مٹانے میں کامیاب رہیںگے ، انہوںنے ایک بارپھر وضاحت کی کہ جمعیةعلماءہند ایک مذہبی تنظیم ہے اورسیاست سے ہماراکوئی تعلق نہیں ہم نہ توالیکشن لڑ تے ہیں اورنہ کسی کو لڑاتے ہیں بلکہ ہم ملک میں اتحاد اوریکجہتی کاپیغام دینا چاہتے ہیں ، ہمارا مقصد برادران وطن کو یہ باورکرانا ہے کہ نفرت تباہی اوربربادی ہی لاتی ہے ، جس کا نظارہ ہم آج اپنی آنکھوںسے کررہے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ جمعیةعلماءہند کی تاریخ شاہدہے کہ اس نے آزادی سے قبل اورآزادی کے بعد ہندو اورمسلمانوںکے درمیان محبت کا ایک پل بنانے کا کام کیا ہے ، ہمارے اکابرین نے جمعیةعلماءہند کے لئے جو رہنماخطوط بنائے تھے وہ بدستوراس پرعمل پیراہے وہ اپنا ہرکام مذہب سے بالاترہوکر محض انسانیت کی بنیادپرکرتی ہے اس سلسلہ میں انہوںنے کیرالااورپنجاب میں آئے سیلاب کا تذکرہ کیا اوریہ بتایا کہ کس طرح جمعیةعلماءہند اوراس کے رضاکاروںنے متاثرین کی مددکی ، یہاں تک کہ کیرالا میں کسی کا مذہب دیکھے بغیر ہم نے سیلاب میں تباہ ہوئے مکانوںکی تعمیر کروائی انہوںنے این آرسی کے دوران آسام میں چالیس لاکھ عورتوںکی شہریت پر لٹکنے والی تلوارکا بھی ذکر کیا اورکہا کہ ان میں پچیس لاکھ غیر مسلم خواتین تھی ، جمعیةعلماءہند نے اس مقدمہ کو سپریم کورٹ میں لڑااورکامیابی حاصل کی اس طرح چالیس لاکھ عورتوںکی شہریت بچ گئی انہوںنے آگے کہا کہ ہم سب کو ساتھ لیکر چلتے ہیں ہندومسلم میں کوئی تفریق نہیں کرتے ہیں،ہمارے مذہب الگ ہوسکتے ہیں لیکن ایک قوم کی حیثیت سے ہم ایک ہیں ، ملک سے نفرت کو ختم کرنے کے لئے ہمیں اسی نظریہ سے کام کرنا ہوگا، دہلی میں احتجاج کررہے طلباکے حوالہ سے انہوںنے کہا کہ جس طرح مسلسل پیپرلیک ہوئے اس سے لاکھوںبچوںکا مستقبل خراب ہوا، ایسا نہیں ہوناچاہئے ، ایسے کمزوراسسٹم کو اب بدلاجاناچاہئے جو پیپرلیک تک نہیں روک سکتا، رام پورمیں مولانا محمد علی جوہر یونی ورسٹی کولیکراٹھے تنازع پر انہوںنے کہا کہ نقشہ کی منظوری کے بغیر عمارت کی تعمیر کوئی ایسا جرم نہیں ہے کہ پوری عمارت کو ہی آپ ملبے کا ڈھیربنادیں اس کے لئے یونی ورسٹی پرجرمانہ بھی عائدکیا جاسکتاہے ،اس بات کو بہرحال ملحوظ خاطررکھا جاناچاہئے کہ اگر ایسا کیا گیا تواس میں زیرتعلیم ہزاروںطلباکا کیئر بربادہوسکتاہے ۔
مولانا مدنی نے انتہائی صاف گوئی سے کہا کہ اس طرح کی نوبت اس لئے آئی ہے کہ پچھلے کچھ برسو ں سے لگاتارنفرت کی سیاست ہورہی ہے اورایک مخصوص فرقہ کو مجرم کے کٹہرے میں لاکرکھڑ اکردیا گیاہے وہ اگر کوئی اچھاکام بھی کرتاہے توبھی کچھ لوگوںکو غلط لگتاہے ، اجلاس میں مہمان خصوصی کے طورپر شریک بنارس کے ہنومان سنکٹ موچن مندرکے مہنت ڈاکٹربشمبرناتھ مشرانے کہا کہ ملک کی آزادی میں سب کا خون شامل ہے اس مٹی میں سب کا لہوشامل ہے جسے ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
انہوںنے کہا کہ اس طرح کے حالات اس لئے پیداہوئے کہ اب لوگوںنے سچ بولنا چھوڑدیاہے ، سب اس انتظارمیں رہتے ہیں کہ کوئی دوسرابولے اس طرح کام نہیں چل سکتا، بلکہ ملک میں جو ناانصا فی ہورہی ہے اس کے خلاف اب سب کو بولنا ہوگامولانا مدنی نے جو تحریک شروع کی ہے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں ہماری جہاں کہیں بھی ضرورت ہوگی ہم موجودرہیںگے ، سپریم کورٹ کی نامور خا تون وکیل اندراجے سنگھ نے کہا کہ آج کا اجلاس ایک پیغام ہے اتحاداوربھائی چارہ کا ۔
انہوںنے یہ بھی کہا کہ آئین نے سب کو یکساں حقوق دیئے ہیں اورکسی کے ساتھ امتیازنہیں برتنے کی ہدایت دی ہے یہ آئین ہی کی برکت ہے کہ میں سپریم کورٹ تک پہنچی ، انہوںنے کہاملک کے حالات دیکھ کر میں اکثراداس رہتی تھی کہ اب ہمارے ملک کا کیا ہوگا، لیکن آج کے اس اجلاس کو دیکھ کر جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں یہ کہہ سکتی ہوں کہ اس ملک کو کوئی توڑنہیں سکتا۔مولانا مدنی نے ملک کو جوڑنے کا ایک بڑاکام شروع کیا ہے ہم سب کو ملکران کا ساتھ دینا چاہئے ۔انہو ںنے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کو راستہ دکھانے والا دانشورطبقہ ٰخاموش ہے یہ صورتحال انتہائی افسوسنا ک اورمایوس کن ہے ۔
اس مہم کے کنوینر مولانا اسجدمدنی نائب صدرجمعیةعلماءہند نے اعلامیہ پڑھاجس کی وہاںموجودتمام حاضرین نے ہاتھ اٹھاکر تائید کی، انہوںنے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ملک سے فرقہ واریت، نفرت اور باہمی دوریوں کو ختم کرکے ہندوستان کی قدیم مشترکہ تہذیب، محبت، رواداری اور بھائی چارے کی روایت کو دوبارہ مضبوط کرنا ہے۔ یہ تحریک مکمل طور پر غیر سیاسی ہے اور اس کا مقصد صرف مختلف مذاہب، برادریوں اور سماجی طبقات کے درمیان اعتماد، احترام اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس مہم کے تحت پورے ملک میں پروگرام منعقد کئے جائیں گے جس میں علمائ، مذہبی رہنما، دانشور، ماہرین قانون، سماجی کارکنان، نوجوان، خواتین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات شریک ہوں گی تاکہ ملک میں محبت، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کا ماحول مزید مضبوط ہو۔انہوں نے آخر میں تمام حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس پیغامِ محبت کو اپنے گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں، عبادت گاہوں اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچائیں، تاکہ ہمارا ملک نفرت کے بجائے محبت، اختلاف کے بجائے احترام اور تقسیم کے بجائے اتحاد کی راہ پر آگے بڑھ سکے۔ © کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیة علماءاترپردیش کے صدرمولانا اشہد رشیدی نے کانفرنس میں شریک غیر مسلم معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ عظیم اجتماع اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ محبت، اخوت، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کا پیغام دلوں کو جوڑنے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ میں کانفرنس میں تشریف لانے والے تمام معزز غیر مسلم مہمانوں، دانشوروں، مذہبی رہنماو ¿ں، سماجی کارکنوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے معزز حاضرین کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کی بنیاد کسی وقتی ضرورت یا سیاسی مصلحت پر نہیں، بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، صدیوں پر محیط بھائی چارے اور انسانیت کے مشترکہ اقدار پر قائم ہے۔ آج یہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک چھت کے نیچے جمع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ محبت کی آواز نفرت کی ہر آواز سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ اجلاس سے بودھ ، عیسائی اورسکھ مذہب کے سرکردہ نمائندوںنے بھی خطاب کیا اور یک زبان ہوکر کہا کہ مولانا مدنی نے جو تحریک شروع کی ہے یہ وقت کی ضرورت ہے اورہم سب ان کے ساتھ ہیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *