
نئی دہلی،18جولائی (میرا وطن نیوز )
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کیے جا نے کے سرکاری حکم پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی سرکار کو طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ تعلیمی ادارے قومی اثاثہ ہوتے ہیں جو برسوں کی اجتماعی محنت اور عوامی اعتماد سے وجود میں آتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی قدم جس سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہو، اسے نہایت احتیاط، انصاف اور حساسیت کے ساتھ اختیار کیا جانا چاہیے۔ ملک معتصم خان نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام سے متعلق انتظا میہ کے فیصلے نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور پورے تعلیمی حلقے میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس موقع پر ملک معتصم خان نے کہا کہ قانونی معاملات اپنی جگہ، لیکن یہ ضروری ہے کہ طلبہ کی تعلیم، امتحا نا ت اور ان کا مستقبل ہر حال میں محفوظ رکھا جائے۔انہوںنے سوال کیا کہ اگر واقعی انہدامی حکم کی بنیا د غیر قانونی تعمیرات ہیں تو پھر یہی معیار ملک کے دیگر تمام تعلیمی اداروں پر یکساں طور پر کیوں نافذ نہیں کیا جا رہا ہے؟ صرف اسی یونیورسٹی کو نشانہ بنا کر امتیازی سلوک کا مظاہرہ کیوں کیا جا رہا ہے؟
No Comments: