
نئی دہلی ،8جون (میرا وطن نیوز )
غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت اردو زبا ن و ادب کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، انسان دوستی، رواداری اور عصری حسیت کو جس خوبصورتی سے بیان کیا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کی غزلوں نے اردو شاعری کو عوامی سطح پر نئی مقبولیت عطا کی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ اس عظیم ادبی شخصیت کے انتقال پر ان کے اہلِ خانہ اور دنیا بھر کے ادب دوستوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے تعزیتی کلمات میں کہا ڈاکٹر بشیر بدر صرف ایک شا عر نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور ادبی روایت کے امین تھے۔ ان کے اشعار میں زندگی کے تلخ و شیریں تجربا ت ، انسانی رشتوں کی نزاکت اور سماجی شعور کی گہری جھلک ملتی ہے۔ ان کی وفات سے اردو دنیا ایک ایسے تخلیق کار سے محروم ہوگئی ہے جس کی آواز کئی دہائیوں تک ادب کے افق پر گونجتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ 2022 میں غالب انسٹی ٹیوٹ نے انھیں غالب اوارڈ پیش کیا تھا۔ہم دعا گو ہیں کہ مرحوم کو جوار ر حمت میں جگہ اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب ہو۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داران ، عملے اور وابستگا ن نے ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی بلندیِ درجات کے لیے دعا کی۔
No Comments: