
نئی دہلی، 23 جولائی (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اسکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات سے آوارہ کتوں کو ہٹانے سے متعلق معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے۔ جسٹس دنیش مہتا کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی سرکار، دہلی سرکار، دہلی میونسپل کارپوریشن اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو اس معاملے پر نوٹس جاری کیا ہے۔ اگلی سماعت 3 اگست کو ہوگی۔
نوٹس کے ذریعے ہائی کورٹ نے آوارہ کتوں کے انتظام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں، خاص طور پر پیدائش پر قابو پانے اور ویکسینیشن سے متعلق۔آوارہ کتوں سے متعلق اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ دہلی میں آوارہ کتوں کو ٹیکہ لگانے اور بانجھ ہونے کے بعد ہی شیلٹر ہومز سے رہا کیا جائے گا۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے فیصلہ سنایا تھا کہ پناہ گاہوں سے آوارہ کتوں کو چھوڑنے پر پابندی ان شرائط کے تحت ہٹائی جا رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ خطرناک یا ریبیز میں مبتلا کتوں کو شیلٹر ہوم سے نہیں چھوڑا جائے گا۔ عدالت نے مزید کہا کہ آوارہ کتوں کو سڑکوں پر کھانا نہیں کھلایا چھوڑا جا سکتا۔ اس کے بجائے ایم سی ڈی کو انہیں کھانا کھلانے کے لیے مخصوص جگہیں مختص کرنی چاہئیں۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ نے اب اس معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے۔
No Comments: