
نئی دہلی، 4 جون(میرا وطن نیوز )
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے ایل جی کو خط لکھ کر دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ میں شدید بیمار، کم مراعات یافتہ کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کے لیے ضروری کیموتھراپی ادویات کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان اہم جان بچانے والی ادویات کی دستیابی کو یقینی بنا نے کے لیے انتظامی ناکامی کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انہوںنے کہا کہ پچھلے 10-12سالوں میں فضائی آلودگی میں اضافہ، دھو ل کی سطح میں اضافہ، یمنا کی آلودگی اور کھانے میں ملاوٹ جیسے عوامل نے راجدھانی کے باشند و ں کی صحت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً، دہلی والے اب پھیپھڑوں، سانس، جگر، اور معدے کے امراض نیزکینسر جیسی سنگین، جان لیوا بیماریوں سے لڑ رہے ہیں۔
خط میں ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 2004 میں دہلی میں کینسر کے 28 ہزار مریض تھے، لیکن اب یہ تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی ہے، جس میں سالانہ تقریباً 28 سے 29ہزار نئے کینسر کے کیسز رجسٹر ہو رہے ہیں۔ دہلی میں کینسر کے واقعات کی شرح مردوں میں فی ایک لاکھ آبا دی پر 146.70 کیسز اور خواتین میں فی ایک لاکھ کیسز 132.50 ہے۔ راجدھانی میں کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح اب ممبئی، کولکتہ اور احمد آباد سے بڑھ گئی ہے جو دہلی کے رہائشیوں کے لیے ایک سنگین انتباہی گھنٹی کا کام کر رہی ہے۔
No Comments: