Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس صدر دفتر میں منعقد

اجلاس میںملک و ملت کو درپیش مسائل پر آل انڈیا کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی، 26 جولائی(میرا وطن نیوز )
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس مشاورت کے مرکزی دفتر، ابوالفضل انکلیو ، جامعہ نگر، نئی دہلی میں صدر مشاورت فیروز احمد ایڈوکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز مولانا ڈاکٹر شیث محمد ادریس تیمی کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ صدر مشاورت نے افتتاحی خطاب میں ملک کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی، اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں، ماورائے قانون انہدامی کارروائیوں، مسلمانوں کے مکانات و عبادت گاہوں پر بلڈوزر کارروائی، نوجوانوں کو مبینہ جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور پرامن مظاہرین پر پولیس و نیم فوجی دستوں کےذریعے طاقت کے استعمال کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف تمام انصاف پسند قوتوں کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پرجنرل سکریٹری احمد جاوید نے ستمبر 2025ءسے جولائی 2026ءتک کی تنظیمی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں رپورٹ میں اجتماعی قیادت کو مضبوط کرنے ، کمیونٹی کی قیادتوں کو انتشار، اضمحلال اور لاتعلقی سے نکالنے اور مشاورت کی ساکھ کو طالع عناصرکی استحصالی ذہنیت سے بچا نے پر زور دیتے ہوئے قیادت کے قرا?نی ماڈل کو اپنانے اور ا?گے بڑھانے میں حائل مشکلات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
ملکی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی بحث کے بعد مجلس عاملہ نے متعدد قراردادیں منظور کیں۔ ایک قرا رداد میں نیٹ اور دیگر امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے تعلیمی نظا م میں بنیادی اصلاحات، تعلیم کی تجارت کو روکنے اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطا لبہ کیا گیا۔ اسی قرارداد میں دہلی سمیت مختلف مقامات پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، طاقت کے استعمال اور پیلٹ گن چلانے کی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کی اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
دوسری قرارداد میں ملک کے مختلف حصوں میں مبینہ اہدافی انہدامی کارروائیوں، اقلیتی اداروں کو نشانہ بنانے اور مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے رجحان پر تشویش ظاہر کی گئی، جبکہ رامپور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو عمارتوں کے انہدام کانوٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ یہ انتقامی کارروائی ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتی۔
ایک اور قرارداد میں گجرات اسٹیٹ انٹیلی جنس بیورو (ایس آئی بی) کی اس مبینہ سفارش کی مذمت کی گئی جس میں اپنے مذہب پر پابندی کے ساتھ زندگی گزارنے والے مسلمانوں کی نگرانی اور ان کے مذہبی اعمال کو انتہاپسندی کی علامت قرار دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی سوچ یا طرز عمل کی بیخ کنی کی جائے۔ مجلس عاملہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ بھارتی مسلم برادری دنیا بھر کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
مشاورت کی مجلس عاملہ نے تنظیمی امور پر بھی اہم فیصلے لیے۔ اجلاس نے مشاورت کے بعض ارکان سے مختلف فیہ امور پربات کرنے کے لیےپانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کے کنوینر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مقرر کیے گئےجبکہ اعجاز مقبول ایڈوکیٹ، انجینئر سکندر حیات، پروفیسر اختر الواسع اور پروفیسر بصیر احمد خاں اس کے ارکان ہوں گے۔مجلس عاملہ نے یہ بھی طے کیا کہ مرکزی دفتر وقتاً فوقتاً ریاستی مشاورتوں کو اہم قومی و ملی مسائل پر رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ تمام ریاستی یونٹس یکساں موقف اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ سرگرم عمل رہیں۔
اجلاس کے اہم فیصلوں میں یہ اعلان بھی شامل تھا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے پہلے عشرے میں ملک اور ملت کو درپیش اہم مسائل پر ایک آل انڈیا کانفرنس منعقد کرے گی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر، سماجی تنظیموں اور ماہرین کو مدعو کیا جائے گا۔اجلاس کا اختتام مشاورت کے نائب صدر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی دعا پر ہوا۔
میٹنگ میں نوید حامد (سابق صدر، مجلس مشاورت)، انجینئر سکندر حیات، شیخ منظور احمد، ایڈووکیٹ اعجاز مقبول احمد، ابرار احمد، آئی آر ایس (ریٹائرڈ)، منصور آغا، ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی، ڈاکٹر ادریس قر یشی (صدر، دہلی مسلم مجلسِ مشاورت)، خواجہ جاوید یوسف (ورکنگ صدر، مغربی بنگال مسلم مجلسِ مشاورت)، محمد احمد مومن (سیکریٹری جنرل، مہاراشٹر مسلم مجلسِ مشاورت) اور آصف انصاری وغیرہم موجود تھے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *