
امام خمینی اور امامِ شہید نے معاشرتی و سیاسی تربیت میں عقلانی استدلال، اخلاقی نصیحت اور منطقی مکالمے کو بنیادی اہمیت دی:ڈاکٹر فتح علی
ہندوستان عظیم تمدنی ورثے کا حامل ہے، ایران بھی ہزاروں سالہ تہذیبی تاریخ رکھتا ہے:ڈاکٹر عصر
بانی انقلاب اسلامی امام خمینی کی 37ویں برسی کے موقع پر ایرن کلچر ہاوس میں علمی سمینار کا انعقاد
نئی دہلی،5 جون (میرا وطن نیوز )
ایران کلچر ہاوس نئی دہلی کے زیر اہتمام اور بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے 37ویں یومِ رحلت اور امامِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی یاد میں ایک علمی سیمینار بعنوان ’امام خمینی اور امامِ شہید کی افکار میں معاضر رشد و ترقی کے اصول‘ منعقد کیا گیا۔
اس سیمینار میں ہندوستان کی علمی، ثقافتی، مذہبی اور سیاسی شخصیات سمیت دانشوروں، اساتذہ، طلبہ اور امام خمینی کی فکر سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر فتح علی، ایران کے ثقافتی مشیر ڈاکٹر فریدالدین فرید عصر، دفتر نمائندگی ولی فقیہ ہند کے نا ئب حجت الاسلام والمسلمین ضیائی نیا، جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری مولانا محمد احمد، مسجد باب العلم دہلی کے امام جمعہ مولانا تصدیق حسین، معروف صحافی و محقق تسلیم رحمانی اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
تقریب کا آغاز ڈاکٹر علی رضا کے ذریعے کی گئی تلاوت کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد معروف شاعر سلیم امروہوی نے حضور اکرم کی شان میں نعتیہ اشعار پیش کیے اور روحانی فضا کو مزید معطر کیا حبکہ مہدی باقرخان نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر فریدالدین فرید عصر نے امام خمینی اور امامِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کر تے ہوئے کہا کہ گزشتہ مہینوں میں ایرانی قوم نے اتحاد، بصیرت اور بھرپور عوامی شرکت کے ذریعہ انقلا ب اسلامی کے اصولوں اور اسلامی جمہوریہ ایران سے اپنی وابستگی کو ایک بار پھر ثابت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر یہ تصور کر رہے تھے کہ ملک کی اعلیٰ شخصیات اور ذمہ داران کو نشانہ بنا کر ایران کے نظام کو کمزور کیا جا سکتا ہے، لیکن حقائق نے ثابت کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عوامی قوت، مضبوط اداروں اور الہام بخش قیادت کی بنیاد پر غیر معمولی استحکام کا حامل ہے۔
انہوں نے ایران کو محض ایک ملک نہیں بلکہ ایک عظیم اور قدیم تہذیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہندوستان ایک عظیم تمدنی ورثے کا حامل ہے، اسی طرح ایران بھی ہزاروں سالہ تہذیبی تاریخ رکھتا ہے اور اپنی ایرانی اسلامی شناخت کو ہمیشہ محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
ڈاکٹر فرید عصر نے کہا کہ امام خمینی اور امامِ شہید کی فکر میں ترقی صرف معاشی اور مادی میدانوں تک محد ود نہیں بلکہ اس میں روحانی، اخلاقی، ثقافتی، سائنسی اور سماجی ترقی بھی شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار ترقی کے لیے سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی خودمختاری ناگزیر ہے اور کوئی بھی قوم حقیقی پیشرفت کے بغیر عزت و استقلال حاصل نہیں کر سکتی۔
انہوں نے ’مزاحمت‘ کو امامین انقلاب کی فکر کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت صرف عسکری مفہوم تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک تہذیبی حکمت عملی ہے جو علمی، ثقافتی، اقتصادی اور سماجی میدانو ں میں اقوام کی ترقی اور خود اعتمادی کا ذریعہ بنتی ہے۔
مولانا تصدیق حسین امام جمعہ مسجد باب العلم اوکھلا دہلی نے سماجی انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ اسلامی معاشرے کی بنیادی پہچان انسانوں کے حقوق کا احترام اور محروم طبقات کی حمایت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نزدیک حقیقی مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام انسان محفوظ رہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا مسلک سے ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین ضیائی نیا نے کہا کہ امام خمینی اور رہبر معظم انقلاب کی نگاہ میں انقلاب اسلامی کے بنیادی اہداف سماجی انصاف، ترقی اور معنویت پر استوار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی، تکنیکی اور اقتصادی میدانوں میں پسماندگی اسلامی معاشرے کے شایان شان نہیں اور ترقی کے لیے حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی اور درست تجزیہ ضروری ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری مولانا محمد احمد نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران معاصر انقلابات میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ امام خمینی نے عالمی استکباری نظام کی حقیقت کو جرات و بصیرت کے ساتھ بے نقا ب کیا اور وقت نے ان کے تجزیوں اور انتباہات کی صداقت کو ثابت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلومو ں اور محروموں کی حمایت انقلابِ اسلامی کی پائیداری کا ایک اہم راز ہے۔
صحافی اور سیاسی تجزیہ کارڈاکٹر تسلیم رحمانی نے امام خمینی اور امامِ شہید کے تاریخی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان دونوں عظیم شخصیات نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک انقلابِ اسلامی کی حفاظت، رہنمائی اور اس کے پیغام کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر فتح علی نے اپنے خطاب میں ایران اور ہندوستان کے دیرینہ تار یخی و ثقافتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی اور امامِ شہید نے معاشرتی و سیاسی تربیت میں عقلانی استدلال، اخلاقی نصیحت اور منطقی مکالمے کو بنیادی اہمیت دی۔انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم انقلا ب کی سیاسی فکر حکمت، اخلاق، عقلانیت اور سماجی حقائق کے گہرے ادراک پر مبنی ہے، جس کی بدولت مختلف نسلیں اس فکر سے متاثر ہوئی ہیں۔
سفیر ایران نے قومی وحدت کو ایرانی قوم کا ایک عظیم سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف دباو ¿ اور چیلنجز کے باوجود ایرانی عوام آج بھی انقلابِ اسلامی اور اس کے اصولوں کے گرد متحد ہیں اور اپنی آزادی، قومی وقار اور شناخت کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔
تقریب کے اختتامی حصے میں ’رہبرِ شہید‘ اور ’مدرسہ میناب‘ کے عنوان سے منعقدہ مصوری مقابلوں کے فاتحین کے ناموں کا اعلان کیا گیا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو تعریفی اسناد اور انعامات سے نوازا گیا۔یہ مقابلے ایران کے ثقافتی مرکز دہلی نو کی جانب سے امامِ شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہا دت اور مدرسہ میناب پر بمباری کے المناک واقعے کی یاد میں منعقد کیے گئے تھے۔ ہند وستان بھر کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے طلبہ نے اس میں بھرپور شرکت کی اور 200 سے زائد فن پارے مو صول ہوئے۔
ان منتخب فن پاروں کی نمائش بعد ازاں ایران کے سفارت خانے اور مختلف ثقافتی پروگراموں میں کی گئی ، جسے طلبہ، اساتذہ، والدین اور فن و مزاحمت سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے بے حد سراہا۔سیمینا ر کا اختتام امام خمینی اور امامِ شہید کی فکری میراث، سماجی انصاف، خودمختاری، معنوی ارتقاءاور اقوام کی ترقی کے موضوعات پر زور دیتے ہوئے کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان رہنماو ¿ں کی تعلیما ت آج بھی دنیا بھر کے آزاد منش انسانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔
No Comments: