Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی کی92 کالونیوں کو او زون سے ہٹانے کا معاملہ مرکز کے ساتھ اٹھائیں گی وزیر اعلیٰ

تاکہ مرکز کو ان کالونیوں کو ’او زون‘ سے ہٹانے میں سہو لت فراہم کی جا سکے:ریکھا گپتا

بدھوڑی کی وزیر اعلی سے ملاقات کی ،’او-زون‘ اسٹیٹس کو ہٹانے کےلئے حقائق پیش کیے
بدر پور اور اوکھلاسمیت چار اسمبلیوں کے تحت پانچ پارلیمانی حلقوں کی کالونیاں ہیں شامل

نئی دہلی،5جون (میرا وطن نیوز )
جنوبی دہلی کے رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی نے جمعہ کودہلی سکریٹریم میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے دہلی کی 92 کالو نیوں کو او-زون زمرہ سے ہٹانے کی مہم کے تحت ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا لو نیوں کو پہلے ہی 2008 میں ریگولرائز کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اب انہیں او-زون سے ہٹا دیا جائے تاکہ رہائشیوں کو مالکانہ حقوق مل سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو مرکزی سرکاراور ڈی ڈی اے کے ساتھ اٹھائیں گی۔
اس موقع پر بدھوڑی نے وزیر اعلیٰ کو بتایاکہ جنوبی دہلی پارلیمانی حلقہ میں بدر پور اسمبلی کے تین وارڈوں میٹھا پو ر ، جیت پور اور ہری نگر میں ایسی 45 کالونیاں ہیں۔اسی طرح مشرقی دہلی پارلیمانی حلقہ کے او کھلا اسمبلی کے تحت ابو الفضل انکلیو اور ذاکر نگر وارڈ کی کئی کالونیاں شامل ہیں۔ مزید برآں، ایسی کالونیا ں نئی دہلی ، مشرقی دہلی، شمال مشرقی دہلی، مغربی دہلی، اور شمال مغربی دہلی کے پارلیمانی حلقوں میں مو جو د ہیں۔ ان کالونیوں کو دہلی اور مرکزی سرکاروں نے 24 مئی 2008 کو باقاعدہ بنایا تھا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کو بتایا ’ حالانکہ ، 8 مارچ 2010 کو، مرکز اور دہلی میں اس وقت کی کانگریس سرکار و ں نے اچانک ان کالونیو ں کو ‘F-Zone’ سے ‘O-Zone’ میں دوبارہ درجہ بندی کر دیا۔ رہا ئشیوں کے احتجاج کے بعد ڈی ڈی اے نے 28 ستمبر 2013 کو ان کالونیوں کو ’ایف زون‘میں وا پس کرنے کے لیے ایک نوٹس جاری کیا، لیکن نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) میں زیر التوا کیس کی وجہ سے حکم پر روک لگا دی گئی۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ جب قانونی مقدمہ 2015 میں ختم ہوا، ان کالونیوں کے بارے میں کو ئی فیصلہ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ڈی ڈی اے کی طرف سے تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی نے کالو نیوں کے حق میں فیصلہ دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ان کا جمنا کے پانی کے معیار یا ندی کے بہاو ¿ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔
انہوںنے وزیر اعلیٰ کو جانکاری دی کہ ڈی ڈی اے کے 28 ستمبر 2013 کے نوٹس سے متعلق باضا بطہ نوٹیفکیشن — جس میں ان کالونیوں کو ‘O-Zone’ سے ہٹانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ یہ ان کالونیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے قابل بنائے گا، جیسا کہ سرکار کی طرف سے حال ہی میں منظور شدہ کالونیوں میں دیے گئے ہیں۔ یہ کالونیاں نجی زرعی اراضی پر واقع ہیں اور ان میں 15 لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔
اس معاملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اس مسئلہ کو مرکز ی سرکار اور ڈی ڈی اے حکام کے ساتھ اٹھائیں گی تاکہ ان کالونیوں کو ’او زون‘ سے ہٹانے میں سہو لت فراہم کی جا سکے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *