Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اوکھلا اسمبلی حلقہ :بوالفضل انکلیو میں نفاذِ عامہ کا نظام درہم برہم،علاقائی عوام پریشان

پینے کے پانی کی شدید قلت اور سیوریج کے ناپاک پانی میں بچھا دی گئی نئی پائپ لائن

نئی دہلی،14ستمبر (میرا وطن نیوز )
اوکھلا اسمبلی حلقے کے پوش علاقوں میں شمار ہونے والا ابوالفضل انکلیو (اے ایف ای ) آج کل مقامی رہنماو ¿ں اور دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کی سنگین لاپرواہی اور بے حسی کا جیتا جاگتا نمونہ بن چکا ہے ۔ علاقے کے Aسے D بلاک، بلال مسجد (D-84 گلی)، رمضانی مسجد (نئی بستی) اور اس سے ملحقہ علاقوں میں عوام دوہرے عذاب میں مبتلا ہیں—ایک طرف پینے کا صاف پانی میسر نہیں، تو دوسری طرف سڑکوں پر سیوریج کا گندا پانی اوور فلو ہو رہا ہے۔
سیوریج کے پانی میں بچھا دی گئی نئی سپلائی لائن: پبلک ہیلتھ سے کھلواڑ:
مقامی لوگوں نے بتایا کہ حال ہی میں بلال مسجد (D-84) گلی میں جل بورڈ کے ذریعے پینے کے پانی کی نئی پائپ لائن ڈالی گئی۔ لیکن لاپرواہی کی حد تب ہو گئی جب مقامی لوگوں کے منع کرنے کے باوجود اس نئی لائن کو سیوریج کے ناپاک پانی میں ہی بچھادیا گیا۔
رہائشیوں نے اس پوری لاپرواہی کی ویڈیو ریکارڈنگ کر کے جل بورڈ کے متعلقہ انجینئر منیش اوررتیش کے ساتھ ساتھ مقامی رہنماو ¿ں کو بھی بھیجی، لیکن اس سنگین مسئلے پر اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ نا پا ک پانی کے پینے کی سپلائی لائن میں مکس ہونے سے پورے علاقے میں انفیکشن اور بیماریاں پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
عوام کا غصہ: “الیکشن کے وقت ڈر اور ووٹ، جیتنے کے بعد گھمنڈ”
مقامی رہائشی رفیق احمد اور ندیم چودھری کے مطابق ابوالفضل کا A سے D بلاک کبھی حد درجہ صاف ستھرا اور شرافت والا علاقہ مانا جاتا تھا، لیکن عام آدمی پارٹی کے تیسری بار الیکشن جیتنے کے بعد علاقے کی حا لت بدتر ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا:کیا یہ رہنما ایسے گندے پانی کو پینے کے لیے تیار ہیں؟ الیکشن کے وقت مسلمان رہنما بڑے بڑے وعد ے کرتے ہیں اور کام نہ ہونے پر معافی مانگتے ہیں، اور عوام کو بی جے پی کی جیت کا ڈر دکھا کر ووٹ ما نگتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ لوگ جیت جاتے ہیں، عوام کو بیوقوف سمجھنے لگتے ہیں اور ان میں گھمنڈ آ جاتا ہے۔
سیوریج کی صفائی میں نااہلی اور قبرستان جانے والے راستوں کی خستہ حالی:
ایک اور مقامی رہائشی احمدنے بتایا کہ مقامی رہنماو ¿ں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ جب تک سیوریج کا پانی سڑک پر نہیں آ جاتا، یہ لوگ اس کی صفائی نہیں کرواتے۔ اگر ہفتوں شکایت کے بعد صفائی کروا بھی دیں تو کیچڑ سڑک پر ہی پڑی رہتی ہے، جو یا تو واپس نالے میں چلی جاتی ہے یا سوکھ کر ہوا کے ساتھ پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مہینوں تک شاہین باغ قبرستان کے سامنے نالے کا گندا پانی بھرا رہا، جس کی وجہ سے لوگوں نے جنازوں کو بتلہ ہاو ¿س قبرستان میں دفنایا یا مجبورا راستہ بدل کر میت کو شاہین باغ لے جانا پڑا۔
نماز پڑھنے والوں اور خواتین کو شدید دشواری‘
نئی بستی اور رمضانی مسجد: نئی بستی کے مقامی رہائشی وقار احمدنے بتایا کہ رمضانی مسجد کے آس پاس کی گلیوں میں سیور کا پانی بھرا ہوا ہے۔ نمازیوں کو شدید دقت کا سامنا ہے اور وہ پانچوں وقت اس ناپاک پانی سے گزر کر مسجد جانے پر مجبور ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے علاقے میں کوئی سسٹم ہی موجود نہ ہو اور علاقہ یتیم ہو چکا ہو۔
گھروں میں خواتین کا برا حال: روزمرہ کے کاموں، نہانے دھونے اور کھانا پکانے تک کے لیے پانی موجود نہیں ہے۔ سب سے زیادہ نقصان خواتین کو ہو رہا ہے جو پورے دن بغیر پانی کے گھروں پر رہتی ہیں۔ لوگ نہانے دھونے کے لیے بھی پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
پراپرٹی بیچنے کا رجحان: علاقے میں سہولیات کی عدم دستیابی اور اس ابتر صورتحال کی وجہ سے اب لوگ اپنے فلیٹس بیچ کر دوسری جگہوں پر منتقل ہونے کو مجبور ہو رہے ہیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *