
نئی دہلی، 14 ستمبر (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کے ستیہ نکیتن میں منہدم پی جی کے ساتھ والی عمارت کو ملبہ ہٹائے بغیر مسمار کر نے کے خلاف عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی میں بنچ نے کہا، آپ عرضی دائر کریں، یہ خود بخود درج ہو جائے گی۔
درخواست گزار نے کہا کہ منہدم پی جی کے ساتھ والی عمارت کو گرا دیا گیا۔ پی جی کا ملبہ وہاں پڑا ہوا تھا اور متاثرین وہاں دبے ہوسکتے ہیں ۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے پوچھا کہ آپ کی معلومات کا ماخذ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عمارت کو منہدم کرنے سے پہلے انتظامیہ نے عمارت کو منہدم کرنے سے پہلے تکنیکی آڈٹ کیا ہوگا۔ آپ درخوا ست دائر کریں، یہ خود بخود درج ہو جائے گا۔
7 ستمبر کو ہائی کورٹ نے دہلی میونسپل کارپوریشن کو جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک عمارت کے اچانک گرنے کی اعلی سطحی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے دہلی سرکار کو اس سانحے میں پھنسے طلبا کو بچانے میں تیزی لانے کی ہدایت کی تھی۔ ہائی کورٹ نے دہلی سرکارکو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی سرکاراس معاملے میں ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی۔
ہائی کورٹ نے حادثے کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے ایم سی ڈی کی طرف سے اعلی سطحی تحقیقات کا حکم دیا تھا کہ عدالت کو بتائیں کہ اس کے ذمہ دار افسران کے خلاف کیا کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ دہلی میں ہر دو سال بعد ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔ آخر دہلی سرکار اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
No Comments: