
نئی دہلی، 15 جولائی (میرا وطن نیوز)
شہریوں کے مفاد میں فیصلہ لیتے ہوئے دہلی کابینہ نے دہلی (رائٹ آف سٹیزن ٹو ٹائم باونڈاینڈ ایز آف ڈلیوری آف سروس ) بل-2026 کو منظوری دے دی ہے۔ سرکاری افسران کے احتساب کے لیے بل میں واضح تعزیری دفعات رکھی گئی ہیں۔ بغیر کسی معقول وجہ کے سروس فراہم کرنے میں تاخیر کی صورت میں، متعلقہ اہلکار پر 250 روپے یومیہ جرمانہ، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 5000 روپے ہے، عائد کی جا سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ یہ بل شہریوں کو مقررہ وقت کے اندر سرکاری خدما ت حاصل کرنے کو یقینی بنائے گا۔ خدمات کی فراہمی میں تاخیر اور غفلت کے لیے سرکاری محکموں اور اہلکاروں کو زیادہ جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ یہ قانون دہلی میں انتظامی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم ہوگا اور شہریوں کو زیادہ شفاف، سادہ، موثر اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات فراہم کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بل دہلی (سروسز کی بروقت فراہمی کے لیے شہریوں کا حق) ایکٹ 2011 کی جگہ لے گا۔ نیا نظام جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا وسیع استعمال کرے گا، جس سے خدمات کی فراہمی کو مزید تیز، شفاف اور موثر بنایا جائے گا۔
بل کے تحت، ہر شہری کو ایک مخصوص مدت کے اندر مطلع شدہ سرکاری خدمات حاصل کرنے کا قانونی حق حاصل ہوگا۔ سرکار وقتاً فوقتاً اس بات کا تعین کرنے کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کرے گی کہ اس ایکٹ کے تحت کن خدمات کا احاطہ کیا جائے گا۔ دہلی سرکاران تمام خدمات، ان کے ٹائم فریم اور متعلقہ نامزد افسروں کو مطلع کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے شہریوں کو بروقت سرکاری خدمات میسر آئیں گی، غیر ضرو ری تاخیر اور دفتری دوروں میں کمی آئے گی، ڈیجیٹل ٹریکنگ سے شفافیت بڑھے گی اور اہلکاروں کا احتساب یقینی بنایا جائے گا۔
No Comments: