
نئی دہلی، 14 جولائی (میرا وطن نیوز )
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام دریا گنج، نئی دہلی میں عالمی شہرت یافتہ درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتی، فتح پور سیکری کے سجادہ نشین پیرزادہ رئیس میاں چشتی کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی ، جس میں علماء، دانشوروں، ادیبوں، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیا ت نے شرکت کی۔ شرکاءنے مرحوم کی دینی، روحانی، سماجی اور قومی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ملک کی صوفی روایت اور مشترکہ تہذیبی ورثے کا بڑا نقصان قرار دیا۔
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے قومی صدر ڈاکٹر سیداحمد خاں نے کہا کہ پیرزادہ رئیس میاں چشتی حضر ت شیخ سلیم چشتی کی سولہویں نسل کے براہِ راست جانشین تھے۔ انہوں نے کم عمری میں سجادہ نشینی کی ذ مہ داری سنبھالی اور آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے تک محبت، امن، رواداری، بھائی چارے اور انسا نیت کے آفاقی پیغام کو عام کیا۔ ان کی پوری زندگی ہندو مسلم اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کے فروغ کے لیے وقف تھی۔
انہوں نے کہا مزید کہا کہ مرحوم کی قیادت میں درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتی نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر کے زائرین کے لیے روحانی مرکز بنی رہی۔ ان کے دورِ سجادہ نشینی میں متعدد سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم، سفارت کاروں اور عالمی شخصیات نے درگاہ پر حاضری دی۔ پیرزادہ رئیس میاں چشتی نے ہمیشہ محبت، اخوت، باہمی احترام اور انسان دوستی کا درس دیا اور اپنی سادگی، اخلاق اور روحانی بصیرت سے لاکھوں عقیدت مندوں کے دلوں میں منفرد مقام حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم کے لائق فرزند ارشد فریدی چشتی سینئر جرنلسٹ ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کریئر کا آغازراشٹریہ سہارا ہندی نئی دہلی سے کیا تھا ،اس کے بعد روزنامہ دینک جاگرن اورروز نامہ امر اجالا ، نئی دہلی جیسے بڑے ہندی اخبارات سے بھی وابستہ رہے اور فی الحال وقت روزنامہ میرا وطن اردو اور ہندی کے چیف ایڈیٹر ہیں۔
تعزیتی نشست میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مرحوم کی تعلیمات، صوفیانہ اقدار اور انسانیت نوازی کے مشن کو آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ملک میں بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور قومی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو۔ نشست کے اختتام پر پیرزادہ رئیس میاں چشتی کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت، بلندی ¿ درجات اور لواحقین و عقیدت مندوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔
تعزیت کرنے والوں میں حضرت مولانا محمد خالد ندوی، مولانا صلاح الدین، ڈاکٹر مفتی جاوید انور دہلوی، ڈاکٹر شکیل احمد، حکیم محمد مرتضیٰ دہلوی، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر ذکی الدین، ڈاکٹر فہیم ملک، اسرار احمد اُجینی اور محمد عمران قنوجی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
No Comments: