
نئی دہلی، 16 مئی(میرا وطن نیوز )
دہلی کانگریس کے کارکنوں نے ہفتے کوتمام 258 بلاک کانگریس کمیٹیوں کے علاقوں میں پٹرول پمپوں اور مدر ڈیری کے دکانوں پر احتجاج کیا۔ یہ مظاہرے دودھ، پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں ملک گیر سطح پر ہونے والے بے تحاشہ اضافے کی مخالفت کرنے اور ان قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی سرکارکے فوری استعفیٰ کا مطا لبہ کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ کانگریس پارٹی قیمتوں میں اضافے کی سخت مذمت کرتی ہے- خاص طور پر پٹرول اور ڈیزل کے لیے 3 روپے فی لیٹر، سی این جی کے لیے 2 روپے فی کلو، اور دودھ کے لیے 2 روپے فی کلو کا اضافہ۔
آج ریاستی صدر دیویندر یادو کانگریس کارکنوں کے ساتھ بیل گاڑی میں سوار ہو کر قرول باغ کے ایک پٹرول پمپ پر گئے، جہاں انہوں نے علامتی طور پر دودھ، پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے تین الگ الگ احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا: پہلا، بادلی اسمبلی حلقہ کے شردھانند کالونی علاقے میں دودھ کی قیمتوں کو لے کر ایک مظاہرہ؛ دوسرا، براڑی میں ایک پٹرول پمپ پر احتجاج؛ اور تیسرا، قرول باغ میں جھنڈے والان میٹرو اسٹیشن کے قر یب پٹرول پمپ پر احتجاج۔
پٹرولیم مصنوعات، دودھ اور کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظا ہر ے میں خواتین اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے ریاستی صدر کے ساتھ شامل ہوکر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ ان کے ساتھ ر انل بھاردواج ، صدر جگجیون شرما،، منگیش تیاگی، مہندر بھاسکر، اور محمد عثمان، آدیش بھاردواج ،انوج اتریہ اور سنیل سراسیا،انل رانا، وجے بھنڈر، چرنجیت رائے، رمیش چوپڑا، دیو ان چند دیوان، راجندر پھلوادیا، سندھیا کماری، اشوک پردھان، کھیم چند سینی، سنجے شرما، نریندر سونی، پردیپ رانا، اور نارائن دت شامل تھے۔
No Comments: