Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

کمال مولا مسجد پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ فیصلہ ناقابل قبول ہے

اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی، 16, مئی (میرا وطن نیوز )
آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ بھوج شالہ- کمال مسجد تنازعہ پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ، جس میں بھوج شالا–کمال مولا مسجد کمپلیکس سرسوتی مندر قرار دیا گیا کو غلط، غیر منصفانہ، تاریخی شواہد، سرکا ری ریکارڈز کے خلاف اور خود محکمہ آثارِ قدیمہ(ASI) کے سابقہ مو ¿قف سے متصادم مانتا ہے۔ بورڈ کمال مولا مسجد کمیٹی کے اس فیصلے کی تائید کرتا ہے کہ وہ اسے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرے گی۔
آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں بھوج شا لہ- کمال مولا مسجد تنازعہ پر مدھیہ پردیش ھائی کورٹ کے فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخی شواہد، تاریخی وریوینیو ریکارڈس، نوآبادیاتی دور کے دستاویزی ریکارڈس اور صدیوں پر محیط مسلم عبادتی تعلق کے برخلاف ہے۔ مزید برآن یہ فیصلہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون
( PlacesofWoshipAct1991 )کی روح سے بھی راست متصادم ہے۔
بورڈ کے ترجمان نے آگے کہامحکمہ آثار قدیمہ کا سابقہ مو ¿قف بھی اس جگہ کی مشترکہ مذہبی حیثیت کو تسلیم کرتا تھا۔ کئی دہائیوں تک ASI کے ریکارڈ اور سرکاری سائن بورڈز میں اس مقام کو “بھوج شالا / کمال مولا مسجد” کہا جاتا رہا، جو اس کے متنازعہ اور مشترکہ مذہبی کردار کی سرکاری قبولیت تھی۔ نیز 2003 کے انتظامی بندوبست کے تحت:ہندوو ¿ں کو منگل کے دن پوجا کی اجازت دی گئی، جبکہ مسلما نوں کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت تھی۔ یہ بندوبست اس بات کا ثبوت تھا کہ اے ایس آئی دونوں برادریوں کے تاریخی دعووں اور عبادتی حقوق کو تسلیم کرتا تھا۔ اس لیے ہائی کورٹ کی جانب سے اس انتظام کو ختم کرنا ASI کے سابقہ مو ¿قف سے بھی انحراف ہے۔
انہوں نے کہا عدالت میں مسلم فریق کا مو ¿قف تھا کہ تاریخی ریونیو ریکارڈز میں اس عمارت کو مستقل طو ر پر مسجد کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ نیز ایسا کوئی ناقابلِ تردید تاریخی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کر ے کہ اسی مقام پر راجہ بھوج کے دور کا سرسوتی مندر قائم تھا۔عدالت نے ریونیو ریکارڈز، نوآبادیا تی دو ر کے سرکاری دستاویزات، گزیٹیئرز اور صدیوں پر محیط مسلم عبادتی تعلق کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
انہوں آگے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی)نے اپنے حالیہ سروے میں مبینہ طور پر مندر سے متعلق ستون، نقوش اور تعمیراتی اجزاءکو بطور ثبوت پیش کیا ہے۔ تاہم یہان یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرون وسطیٰ کی بہت سی اسلامی عمارتوں میں قدیم تعمیراتی مواد دوبارہ استعمال کیا گیا تھا، صرف مندر کے آثار مل جانا مسجد کی صدیوں پرانی حیثیت کو قانونی طور پر ختم نہیں کرتا اور کسی قدیم غیر اسلامی ڈھا نچے کی موجودگی موجودہ مذہبی شناخت کا حتمی ثبوت نہیں بن سکتی۔یہ فیصلہ عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی روح کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا افسوس ہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں راجہ بھوج سے متعلق روایات،سنسکرت تعلیم کی تاریخی روایت،اور اے ایس آئی سروے کے نتائج پر زیادہ انحصار کیا۔ تاہم ہم یہ واضح کردینا ضرور ی سمجھتے ہیں کہ ادبی و روایتی حوالہ جات ہمیشہ قطعی تاریخی ثبوت نہیں ہوتے، قرونِ وسطیٰ کے مقامات کئی ادوار میں تبدیل ہوتے رہے ہیں اور عدالت نے مسلسل عبادتی استعمال اور بعد کے سرکاری ریکارڈز کے مقابلے میں تہذیبی دعووں کو ترجیح دی ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہاکہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایک ممکنہ قدیم مندر سے متعلق آثار اور تہذیبی بیانیے کو ترجیح دی گئی، جبکہ صدیوں پر محیط مسجد کی حیثیت،سرکاری ریکارڈز، اے ایس آئی کا سابقہ مشتر کہ انتظام،اور آزادی کے بعد مذہبی حیثیت برقرار رکھنے کے آئینی اصول کو نظر انداز کردیا۔آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کمال مولا مسجد کمیٹی کے اس اعلان کی تائید کرتا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ بورڈ اس سلسلے میں کمال مولا مسجد کمیٹی کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *