Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

چھ سال کے طویل عرصے کے دوران بھی حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نہیں کرسکی حکومت

سال 2020سے حج کمیٹی کی تشکیل نہیںہوئی ،2027کے لئے حج امور کے کام جاری

حج کمیٹی آف انڈیا کی فوری تشکیل کی جائے ،حج رضاکاروں کاحکومت ہندسے مطالبہ
سپریم کورٹ کئی بار حکومت کو حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل کرنے کا دے چکی ہے حکم
حج کمیٹی کے سابق ممبرحافظ نوشاد اعظمی نے 2021میں سپریم کورٹ کارخ کیا تھا
سابق چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے اپریل 2024 میں تین ماہ میں کمیٹی بنانے کا حکم دیا تھا
ہندوستانی عازمین حج کے مخلص خادم حافظ نوشاد اعظمی کا12 ستمبر 2025میں ہوچکا ہے انتقال
مرحوم حافظ نوشاد اعظمی کے انتقال کے ایک سال بعد بھی حج کمیٹی کی تشکیل نہیں ہوسکی ہے

نئی دہلی ،13ستمبر (میرا وطن نیوز )
ملک میں مرکز اورریاستوں میں کسی بھی پارٹی کی سرکاریں ہوں یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ وہ یکساں طور سے سبھی لوگوں کی ترقی کرنا چاہتی ہیں ۔مگر جہاں تک اقلیتوں کی بات ہے تب چاہے مرکز ہو یا پھر صوبا ئی سرکریں اقلیتی اداروں کے تئیںحساس نہیں ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ وقت میں ملک اور ملک کی راجدھانی میں اقلیتی اداروںکی تشکیل نہیں ہوسکی ہے ۔ اس کی تازہ مثال2020سے حج کمیٹی آ ف انڈیا کی تشکیل نہیںکیا جانا ہے ۔جبکہ بتایا جا تا ہے ’سریم کورٹ آف انڈیا تین مرتبہ مرکزی سرکار کو حج کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت جاری کرچکا ہے لیکن چھ سال کی طویل مدت کے بعد بھی حج کمیٹی کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نہیں ہوپائی ہے ۔حالانکہ حج 2027کے لئے حج امور کے کام جاری ہیں اورکمیٹی نہیں بننے کی وجہ سے ان کے متا ثر ہونے کے بھی قومی امکان ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد اعظمی کی توہین عدالت کی عرضی پر سپریم کور ٹ کے سابق چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے اپریل 2024میں اقلیتی امور کی وزارت کو تفصیلی طور پر سخت ہدایت جا ر ی کرتے ہوئے تین ماہ کے اندر ہر سیکشن کے تحت حج کمیٹی آف انڈیا کی پوری طر ح تشکیل اور افسرا ن کی تقرری کرنے کا حکم دیا تھا ۔بتایا جاتا ہے کہ اس وقت چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ، جسٹس جے پی پادری والا اور جسٹس منوج مشراکی بنچ نے فریقین کی بحث سننے کے بعد یہ حکم دیا تھا ۔
دلچسپ یہ ہے کہ اکتوبر 2021سے سپریم کورٹ میں حج کمیٹی کی تشکیل کو لے کر مستقل جد و جہد کر نے والے حافظ نوشاد اعظمی نے اس وقت اپنے رد عمل میں اپریل 2024کو کہا تھا کہ ہم عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور شکر گزار ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ قانون کی مستقل طور پر نا فرمانی کرنے والے افسران کے خلاف نشاندہی کر کے اگر کوئی کارروائی ہوتی تو مستقبل میں افسران قانون توڑنے سے گریز کرتے بہر حال ہم آئین اور قانون پر پوری طرح بھروسہ اور یقین کرتے ہیں اور فی الحال عدالت نے اس عرضی کا نپٹارہ کردیا ہے مگر ہم اور ہمارے رفقاحج ایکٹ 2002کے تحت حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل اور کمیٹی کے افسروں کی تقرری کرانے تک ہر طرح سے جد و جہد کرتے ر ہیں گے ۔
بتایا جاتا ہے کہ حافظ اعظمی کی عرضی پر مارچ 2024کو عدالت عظمیٰ نے حکومت کو نامہ داخل کرنے کو کہا تھا ،اس وقت سرکار کی طرف سے حلف نامہ داخل کیا جس میں وزارت نے پوری طرح ٹال مٹول اور صریحی طور سے عدا لت کو گمراہ کرنے کا کام کیا تھا۔اس وقت وزارت کے حلف نامہ میں لوک سبھاکے اسپیکرکو خط لکھنے کے باوجود انہو ں نے نام نہیں بھیجا ۔اس وقت راجیہ سبھا کے چیئر مین کو بھی اسی طرح خط بھیجا اور راجیہ سبھا کے چیئر مین نے بھی نام نہیں بھیجا اوراس وقت حلف نامہ داخل کرنے کے بعد وزارت نے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا جس میں کمیٹی کا الیکشن کرانے کی اجازت مانگی تھی لیکن اس خط کا جواب بھی عدا لت میں نہیں پیش کیا ۔
بتایا جاتا ہے کہ اس وقت حافظ اعظمی کے وکیل سنجے ہیگڑے اوروکیل طلحہ عبد الرحمن نے تحریری طور سے عدالت کے ساری باتیں حلف نامہ کے ذریعہ برکھی تھیں ۔انہوں نے بحث میں یہ کہا کہ 4سال سے حکومت اس ادارہ پر مستقل طور سے غیر قانونی قبضہ کئے ہوئے ہے ۔وزارت نے ایکٹ 2002کے تحت کمیٹی بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔انہوں نے بحث میں حج کمیٹی آف انڈیا میں افسران کی غیر قانونی طور سے تقرری اور ٹال مٹول کا بھی معاملہ بہت سنجیدگی سے اٹھایا ۔اس کے ساتھ ہی حافظ اعظمی کے وکلاءنے یہ بھی کہا کہ اس محکمہ کا وزارت خارجہ سے تبدیل کرکے اقلیتی امور میں لانا پوری طر ح سے غلط تھا ۔
جبکہ اس وقت مرکزی سرکار کے وکیل نٹراج نے ایک اٹھایا کہ رول وزارت خارجہ کے زمانے کے بنے ہیں وہ اقلیتی وزارت میں تبدیل نہیں ہو پائے اس پر عدالت عظمیٰ نے سخت رخ اپناتے ہوئے کہا کہ جو کچھ آپ کو کرنا ہے تین ماہ کے اندر قانون اور سیکشن کے تحت آج حج کمیٹی آف انڈیا بنا لیں اور افسران کی تقرری بھی قانونی طور سے کریں ۔
حیرت اور افسوسناک ہے کہہندوستانی عازمین حج کے مخلص خادم اور سابق ممبر حج کمیٹی اور قومی صدر آ ل انڈیا حج سیوا سمیتی حافظ نوشا اعظمیٰ کاستمبر 2025 کوانتقال ہوگیا ۔ان کے انتقال کو ایک سال کا عر صہ گزر گیا ہے ۔لیکن مرکزی حکومت اس کے باوجود حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نہیں کرپائی ہے ۔حج رضا کاروں نے مرکزی سرکار کے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو سے حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل کے لئے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے ۔
حج رضا کاروں کا کہنا ہے کہ حافظ صاحب نے اپنی پوری زندگی ہندوستانی عازمین حج کے لیے بہتر سہو لیا ت اور حقوق کے حصول کی خاطر مختلف حکومتوں کے خلاف جدوجہد کی۔ ان کی انتھک کوششوں ہی کی بدولت سعودی عرب جا نے والے ہندوستانی عازمین کو وہ سہولیات میسر آئیں جن کے وہ بجا طور پر حقدار تھے۔
حج رضا کاروں کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے حج کمیٹی اور عازمین حج سے منہ موڑ لیا، تو انہوں نے سپر یم کورٹ آف انڈیا میں تنہا قانونی جنگ لڑی اور اپنے حق میں فیصلہ حاصل کیا۔ شدید علالت کے باوجو د ، وہ عازمین حج سے متعلق مسائل اور ان کے حق میں ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے ساتھ خط و کتابت اور جدوجہد کرتے رہے۔
حج رضا کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی صحت کے مسائل کو پس پشت ڈال کر حافظ نوشاداعظمی پچھلے سال میں ما نسون اجلاس کے دوران اپوز یشن کے ارکانِ پارلیمنٹ سے فعال طور پر ملاقاتیں کرتے رہے تاکہ ا نہیں ان مسائل سے آگاہ کر سکیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ معاملات پارلیمنٹ میں اٹھائے جا ئیں ۔ لیکن افسوسناک پہلو رہا نہ ہی اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہانا اور نہ ہی مسلم پارلیمان نے مرحوم کی آواز کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اٹھایا ۔حج رضا کاروں کا کہنا ہے کہ مرحوم کی ناقابلِ فراموش خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *