
نئی دہلی، 11 جون (میرا وطن نیوز)
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے ہزاروں کارکنوں نے جمعرات کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ہیڈکوارٹر کی طرف احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرے کے دوران کارکنان علا متی طور پر کٹھ پتلیا ں اٹھائے ہوئے تھے اور کمیشن کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوال اٹھارہے تھے۔
احتجاج کرنے والے کارکنوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے کام کاج اور اس کے کچھ حالیہ فیصلوں نے اس کی غیر جانبداری اور جمہوری اقدار سے وابستگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ این ایس یو آئی کے کارکنوں نے بینرز اور پلے کارڈز بھی آویزاں کیے جن میں شفافیت، احتساب اور آئینی اداروں کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔جب مظاہرین الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف بڑھ رہے تھے تو دہلی پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے کئی کارکنوں اور لیڈروں کو حراست میں لے لیا اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
وہیں، این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو شہریوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے کام کاج پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں کو کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ سے آزادانہ طور پر کام کرنا چاہیے ۔کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کی منسوخی سمیت کئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ جمہوری اداروں پر سیاسی دباو ¿ بڑھ رہا ہے۔
ونود جاکھڑ نے کہا کہ پولیس کارروائی کے ذریعے پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش افسوس ناک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نظربندیاں جمہوری سوالات کو دبا نہیں سکتیں اور این ایس یو آئی جمہوریت، شفا فیت اور ادارہ جاتی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی تحریک جاری رکھے گی۔احتجاج کے دوران پو لیس او ر کارکنوں کے درمیان معمولی جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں، حالانکہ بعد میں حالات پر قابو پالیا گیا
نئی دہلی، 11 جون (میرا وطن نیوز)
نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے ہزاروں کارکنوں نے جمعرات کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ہیڈکوارٹر کی طرف احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرے کے دوران کارکنان علا متی طور پر کٹھ پتلیا ں اٹھائے ہوئے تھے اور کمیشن کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوال اٹھارہے تھے۔
احتجاج کرنے والے کارکنوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے کام کاج اور اس کے کچھ حالیہ فیصلوں نے اس کی غیر جانبداری اور جمہوری اقدار سے وابستگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ این ایس یو آئی کے کارکنوں نے بینرز اور پلے کارڈز بھی آویزاں کیے جن میں شفافیت، احتساب اور آئینی اداروں کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔جب مظاہرین الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف بڑھ رہے تھے تو دہلی پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے کئی کارکنوں اور لیڈروں کو حراست میں لے لیا اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
وہیں، این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو شہریوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے کام کاج پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں کو کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ سے آزادانہ طور پر کام کرنا چاہیے ۔کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کی منسوخی سمیت کئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ جمہوری اداروں پر سیاسی دباو ¿ بڑھ رہا ہے۔
ونود جاکھڑ نے کہا کہ پولیس کارروائی کے ذریعے پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش افسوس ناک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نظربندیاں جمہوری سوالات کو دبا نہیں سکتیں اور این ایس یو آئی جمہوریت، شفا فیت اور ادارہ جاتی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی تحریک جاری رکھے گی۔احتجاج کے دوران پو لیس او ر کارکنوں کے درمیان معمولی جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں، حالانکہ بعد میں حالات پر قابو پالیا گیا
No Comments: