
نئی دہلی ،11جون (میرا وطن نیوز )
وزیر تعلیم آشیش سود نے کہا کہ 2024 میں اولڈ راجندر نگر کے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں پیش آنے والے المناک واقعہ میں کئی طلبا ءاپنی جانیں گنوا بٹھے تھے اور اس کی وجہ سیلاب اور تہہ خانے کی حفاظت کے حوالے سے سنگین غلطیوں کے ساتھ ساتھ ساختی اور بنیادی سہولیات میں کمی تھی ۔اس حادثے نے عدالتی اور انتظامی دونوں سطحو ں پر گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کی ۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آئندہ ایسے حادثات دوبارہ نہ ہوں، دہلی ہائی کور ٹ نے جسٹس (ریٹائرڈ) آر کے گوبا کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی،جسے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کی کمزوریوں کا جائزہ لینے اور جامع حفاظتی اقدامات کی سفارش کرنے کا کام سونپاتھا۔ گوبا کمیٹی نے نظامی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کی ہے اور سخت ضابطے اور نگرانی کے لیے ایک فریم ورک تجویز کیا ہے۔
اس پس منظر میںآشیش سودکی صدارت میں دہلی سکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی رابطہ میٹنگ ہوئی،جس میں تمام کلیدی ریگولیٹری اور شہری ایجنسیوں کے سینئر افسران بشمول دہلی میونسپل کارپوریشن ، دہلی فائر سرو س، ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن، دہلی پولیس، محکمہ محنت، محکمہ صحت، اور شہری ترقیات کے محکمے نے میٹنگ میں شرکت کی۔
میٹنگ وزیر تعلیم نے کہا کہ دہلی حکومت کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مسئلہ کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ حل کر ر ہی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ایک کثیر الضابطہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کلیدی پہلوو ¿ں پر تفصیلی رہنما خطو ط تیار کرے گی ۔جن میںکوچنگ اداروں کی فیس کا ڈھانچہ،طلباءکی حفاظت اور بہبود،دماغی صحت کی مدد اور مشاورت کا طریقہ کار،بنیادی ڈھانچے کے معیارات اور عمارت کی حفاظت کی تعمیل،فائر سیفٹی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے انتظامات اوراساتذہ اور عملے کے لیے فلاح و بہبود اور کام کے حالات کو معیاری بنانا شامل ہیں۔کمیٹی ان اداروں کے عملے اور طلبا ءکے لیے شکایات کے ازالے کے طریقہ کا ر کے قیام پر بھی کام کرے گی۔ مزید برآں، باقاعدگی سے معائنہ اور تعمیل کی کڑی نگرانی کو یقینی بنایا جا ئے گا۔
No Comments: