
نئی دہلی ،14ستمبر (میرا وطن نیوز)
غالب اکیڈمی میں ماہانہ شعری نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر جی آر کنول نے کہا کہ غالب72سال کی عمر میں دنیا چھوڑ کر چلے گئے تھے وہ دنیا کے چند شاعروں میں سے ہیں جو اپنے کلام کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ان میں حافظ، رومی،شیکسپئر،ملٹن کیٹس وغیرہ شامل ہیں۔غالب غزل کے شاعر ہیں۔ غزل کی لفظیات عاشق معشوق،گل وبلبل،عندلیب،چمن، ہجر وفراق وغیرہ تک محدود ہیں۔لیکن غالب نے اپنے شاعری میں دنیا کے ہر مسئلے کا حل بیان کر دیا ۔ نشست میں دہلی اور بیرون دہلی کے ہندی اردو شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔منتخب اشعارپیش خدمت ہیں۔
میرے جانے سے اس دنیا کی رونق کم نہیں ہوگی
میں اس کی تاب پہلے سے زیادہ چھوڑ جاو ¿ں گا
ڈاکٹر جی آر کنول
سفر طویل ہو یا موسموں کی دشوار
پرندہ گھر کی طرف لوٹنے سے واقف ہے
افضل منگلوری
دشمنوں کے درمیاں کچھ رابطے کام آگئے
حسن اخلاق وعمل کے سلسلے کام آگئے
ثاقب ہارونی
گر جان بھی جاتی ہے چلی جائے نہیں غم
ہم ایسے کسی خوف کی پراوہ نہیں کرتے
فرزانہ غزل
کرتے ہیں جنگ راہ میں وہ دھول کے خلاف
رستہ بدل نہ پائے جو معمول کے خلاف
شاہد انور
شعور وعلم و مودت و آگہی کے چراغ
کہاں گئے وہ محبت کی روشنی کے چراغ
انجم جعفری
میں اپنی محبت کو قربان کردوں
تجھے جان کر بھی انجان کردوں
وفا اعظمی
جب وہ آنکھوں کو چار کرتا ہے
اور بھی بے قرار کرتا ہے
ہاشم دہلوی
زخم کھاتے ہو مسکراتے ہو
اتنی ہمت کہاں سے لاتے ہو
درد دہلوی
بلند جس سے ہو پرواز اس ہنر کے لیے
میں خود کو وار دوں شاہیں کے بال وپر کے لیے
معصوم راشدی
اپنی کمی کو سامنے لاتے تو بات تھی
چادر انا کی پھینک کے آتے تو بات تھی
رچنا نرمل
بچھڑ رہے ہو بڑی چھبن ہے مگر تم اپنا خیال رکھنا
میں جانتی ہوں تمہیں بھی غم ہے مگر تم اپنا خیال رکھنا
ڈاکٹرامرتا امرت
عمر ساری گزر گئی یوں ہی
میری ہستی بکھر گئی یوں
طلعت سروہہ
اپنے حالات سے مجبور ہے شاید چشمہ
گردش وقت کے حالات سمجھنے والا
چشمہ فاروقی
کم منافع سے بھی ملتی ہے مسرت اس کو
مسکراتا ہے کھلونوں کو بنانے والا
ارون شرما صاحب آبادی
اس موقع پر ڈاکٹر شہلا احمد،پروین ویاس، پون کمار تومر،سدھارتھ آغا،سنجے شکلا تلخ،ڈاکٹرصبیحہ ناہید، شا ہ رخ عبیر، شاداں احسن، امثل فواز، شری پال شرما،پرم ویر سنگھ، انجیئر کھنڈیوال،گولڈی غضب، گلبہا ر ،عارف حسین افسر،ناگیش چندر،علی آصف، سورج پال سنگھ ادنیٰ، سریش چندر،جوگندر سنگھ، راج بیر سنگھانیا،سمن ناگر سرل اپنے اشعار پیش کئے۔نشست میں کمال الدین، ابونعمان، شری کانت کوہلی، کرناٹک سے تشریف لائے ڈاکٹر حمید کوپڑ نے خصوصی شرکت کی۔آخر میں غالب اکیڈمی کے سکریٹر ی ڈاکٹر عقیل احمد نے شکریہ ادا کیا۔
No Comments: