
نئی دہلی، 12 جولائی(میرا وطن نیوز)
دہلی بی جے پی کے صدر ہرش ملہوترا نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور اروند کجریوال کے لیے سندر کا نڈ پا ٹھ ‘ کا اہتمام سیاسی چال سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ وہ دہلی میں جب بھی ان کے سیاسی مفا د ا ت کے لیے ان تقریبات کا اہتمام کر کے اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس موقع پر ہرش ملہوترا نے کہا کہ اروند کجریوال کے فریب کارانہ ہتھکنڈے — جیسے شری رام مندر کے بارے میں بولنا اور’ سندرکانڈپاٹھ ‘ کا اہتمام کرنا — بنیادی طور پر پنجاب اور دیگر ریاستوں میں آنے والے انتخابات سے قبل ہندو ووٹر و ں کو راغب کرنے کی کوششیں ہیں۔انہوںنے کہا کہ دہلی اور ملک کے لو گ اب بھی اس تقریر کو اچھی طرح سے یاد کرتے ہیں جس میں کجریوال نے اپنی نانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مسجد توڑ کر بنے ہوئے مندر کا دورہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
ہرش ملہوترا نے کہا کہ دہلی کے لوگ یہ بھی یاد کرتے ہیں کہ کس طرح 2024 میں ایودھیا میں شری رام مندر کی تعمیر کے بعدکجریوال میں ’ہندوتوا‘ کے جذبات میں اچانک اضافے نے سیاسی فائدے کے تحت اس وقت کی آپ سرکار کو دہلی کے تمام حلقوں میں ہفتہ وار’ سندرکانڈ پاٹھ‘کا اعلان کیا۔ تاہم، 16 جنوری 2024 کو تقریباً 50 حلقوں میں منعقد ہونے والے ایک ہی پروگرام کے بعداس پہل کو بڑ ی حد تک فراموش کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2024 میںآپ سرکار نے بیک وقت 2,600 مقامات پر سندرکانڈ پاٹھ کے انعقاد کے منصوبوں کا اعلان کیا، پھر بھی ممکنہ طور پر ان سائٹس میں سے 26 پر بھی تقر یب منعقد نہیں ہوئی۔ دہلی بی جے پی کے صدر نے اروند کجریوال سے پوچھا ہے کہ وہ کب تک بھگوان ہنومان کے نام اور سندرکانڈ پاٹھ کے نام پر لوگوں کو اپنی بگلا بھکتی دکھا کر ہندﺅ مذہب کی توہین کریں گے۔ ہرش ملہوترا نے کہا کہ کجریوال جو آج روہنی میں سندرکانڈ پاٹھ کا تماشا لگا رہے ہیں، انہیں یہ بتانا چاہئے کہ انہوں نے 2024 کے درمیان میں اعلان کردہ سندر کانڈ پاٹھ کا سلسلہ کیوں چھوڑ دیا۔
No Comments: