
اردو زبان سے انہیں بہت کچھ ملا جس کےلئے وہ ہمیشہ شکر گزار رہیں گے:مودود صدیقی
اردو نے مجھے جو کچھ دیا اور جس طرح کے اچھے لوگ دئے ،میں اس سے مطمئن ہوں
نئی دہلی ،یکم جون (میرا وطن نیوز )
اردو محض پروفیسر ز ،لیکچررز اور اسکالرز تک محدود ہوتی جا رہی ہے جبکہ اس کی آبیاری کے لئے ضرورت اس بات کی تھی کہ اس کو عام لوگوں کے لکھنے اورپڑھنے کی زبان بنایا جانا چاہئے تھا ۔ان خیالات کا اظہا ر اردو کے معروف صحافی مودود صدیقی نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ جب ماضی پر نظر ڈالتے ہیں اور آج کے حالات سے اس کا موازانہ کرتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اردو زبان وینٹی لیٹر پر چلی گئی ہے۔
اپنی زندگی کے 88سال مکمل ہونے پر بزرگ صحافی مودود صدیقی نے کہا کہ میں نے طلوع اور غروب دونوں طرح کا وقت دیکھ لیا ،اردو نے مجھے جو کچھ دیا اور جس طرح کے اچھے لوگ دئے ،میں اس سے مطمئن ہوں ۔
حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ اردو زبان سے انہیں بہت کچھ ملا جس کے لئے وہ ہمیشہ شکر گزار رہیں گے لیکن اہل اردو سے انہیں کچھ خاص نہیں ملا ۔
نامور صحافی مودودصدیقی نے کہا کہ اگر چہ ملک میںمرحوم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں بی جے پی کی سرکار پہلے بھی قائم ہوئی لیکن اس طرح کی تنگ نظری نہیں تھی ۔واجپئی ایک وضع دار انسان تھے ۔ا ن سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں ۔واجپئی اردو زبان کے مداح تھے لیکن موجودہ سرکار کی پالیسیوں نے اردو کو انتہائی حاشیہ پر پہنچا دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سینئر صحافی مودود صدیقی اتر پردیش کے ضلع امروہہ سے محض 16سال کی عمر میں دہلی آئے تھے اور اس کے بعد سے ہی اردو کی خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا ۔انہوں نے ابتدائی طور پر ایک اخبار کے دفتر میں خدمت گار کے طور پر کام شروع کیا اور اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔اس طرح اردو صحافت اور اخباری دنیا میں آگئے۔بزرگ صحافی نے کہا کہ جس وقت وہ دہلی آئے تھے اس وقت اردو ادب اور صحافت کی دنیا میں بے شمار ذہین لوگ تھے جنہوں نے ان کی تربیت کی ۔
نامور صحافی مودود صدیقی نے اردو صحافت کے بڑے مشاہیر کے ساتھ کام کیا جن میں ناز انصاری اور مہدی نقوی وغیر ہ شامل ہیں ۔انہوں نے اردو کے بڑے اداروں میں منیجر کے طور پر خدمات بھی انجا م دیں ۔مودود صدیقی نے بتایا کہ انہیں دو بار سرکاری نوکری کے مواقع ملے لیکن انہوں نے اس سے انکار کردیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اردو کی خدمت جاری رکھیں گے۔
No Comments: