
مولانا محمود مدنی کا یو پی سرکارسے نظرثانی کا مطالبہ
نئی دہلی، 20 جولائی(میرا وطن نیوز)
جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور کی 38 عمارتوں کے انہدام سے متعلق جاری حکم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ قانون کی حکمرانی، قدرتی انصاف اور آئینی ذمہ داری سے براہِ راست وابستہ ہے۔ اس سے ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، ان کے بنیادی حقوق اور ملک کے علمی سرمایہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اگر کسی تعمیر میں قانون شکنی ثابت بھی ہو جائے تو بھی انہدام ہمیشہ واحد یا ناگزیر راستہ نہیں ہوتا۔ اترپردیش شہری منصوبہ بندی و ترقیاتی قانون 1973 کی دفعہ 27(1) خود اس با ت کی تائید کرتی ہے کہ انہدام ہر صورت میں لازم نہیں ہے۔ اگر کوئی عمارت بنیادی لینڈ یوز یا ماسٹر پلان سے متصادم نہ ہو تو اتھارٹی ترمیم شدہ نقشے کی منظوری، ریگولرائزیشن، ترقیاتی فیس، کمپاﺅنڈنگ اور دیگر مالی جرمانوں کے ذریعے معاملے کو قانون کے مطابق حل کر سکتی ہے۔ ملک کے مختلف ترقیاتی ادارے برسوں سے ایسے ہی قانونی متبادل اختیار کرتے آئے ہیں۔ اس لیے کسی بھی تعلیمی ادارے کے معاملے میں انہدام سے قبل ان تمام امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا انصاف، قانون اور عوامی مفاد کا بنیادی تقاضا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ متعدد عدالتی نظائر بھی موجود ہیں جن میں کانپور کے رومہ انڈسٹریل ایریا میں قائم انجینئرنگ کالج، وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، جھانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور الٰہ آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔ ان تمام مقدمات میں عدالتوں نے فوری انہدام کے بجائے کمپاﺅنڈ نگ، ریگولرائزیشن اور دیگر قانونی متبادل پر زور دیا ہے۔
مولانا مدنی نے حکومت اتر پردیش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حساس معاملے میں آئینی ذمہ داری اور قانونی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہدامی کارروائی پر نظرثانی کرے اور دیگر متبادل قانونی اقداما ت کو ترجیح دے تاکہ ایک طرف قانون کی عملداری برقرار رہے اور دوسری طرف ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل اور بھارت کا یہ قیمتی تعلیمی سرمایہ محفوظ رہ سکے۔
No Comments: