
ئی دہلی ،20اگست (میرا وطن نیوز )
دہلی کی سیاست میں اپنے کردار کے لیے مشہور کانگریسی رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ سجن کمار کا 80 بر س کی عمر میںانتقال ہو گیا ۔ ان کے قریبی افراد کے مطابق جمعرات کو سجن کمار کی تہاڑ جیل میں طبیعت خراب ہو نے کے بعد دہلی کے صفدر جنگ اسپتال لایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں مرد ہ قرار دے دیا۔ان کے انتقال کی خبر نے دہلی اور پوری قوم کے سیاسی، سماجی اور عوامی خدمت کے شعبو ں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کانگریس کارکنوں، حامیوں اور خیر خواہوں نے ان کے انتقال کو عوامی زند گی کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔
اپنے طویل سیاسی کیرئیر میں سجن کمار ہمیشہ عام لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے، ان کی خوشیوں اور غموں میں شریک رہے۔ وہ ایک نرم گو، ملنسار اور قابل رسائی رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے جنہوں نے عوا م میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ ان کی رہائش گاہ اور دفتر کے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے ر ہتے تھے اور وہ لوگوں کی شکایات کے ازالے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے اعتماد اور رشتہ داری کی علامت بن گئے۔
دہلی کی ترقی، عوامی بہبود اور تنظیم کی مضبوطی میں ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا شمار کانگر یس پارٹی کے مضبوط رہنماو ¿ں میں ہوتا تھا اور تنظیم کو مضبوط بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ ان کے انتقال سے کانگریس خاندان نے ایک تجربہ کار، مقبول اور سرشار رہنما کھو دیا ہے۔دہلی کی سیاست میں سجن کمار کی شراکت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی سادہ طبیعت، خوش اخلاقی ، عوامی مقاصد سے وابستگی اور لوگوں کے تئیں حقیقی گرمجوشی نے انہیں دوسرے لیڈروں سے ممتاز کیا۔ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا مستقبل قریب میں پر نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق تین میں سے دو مقدمات میں قصوروار ٹھہرا ئے جانے کے بعد دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ وہ ایک مقدمے میں بری بھی ہو چکے تھے۔سجن کمار 23 ستمبر 1945 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغا ز 1970 کی دہائی میں دہلی میونسپل کارپوریشن میں کونسلر بن کر کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ریاستی کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 1980، 1991 اور 2004 میں لوک سبھا کے رکن کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔ سنجے گاندھی کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے سجن کمار بیرونی دہلی کے علاقے میں کانگریس کی ایک ممتاز شخصیت تھے۔
سجن کمار کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے سلسلے میں ہجوم کو اکسانے اور قتل کرنے کے الزامات کا سامنا تھا۔ 17 دسمبر 2018 کو دہلی ہائی کورٹ نے اسے پالم کالونی کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ فروری 2025 میں، راو ¿س ایونیو کورٹ نے بھی اسے مجرم ٹھہرایا اور سرسوتی وہار کیس میں عمر قید کی سزا سنائی۔ تاہم وہ بعض دیگر مقدمات میں بری ہو چکے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ 31 اکتوبر 1984 کو وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد یکم نومبر 1984 سے دہلی اور دیگر کئی علاقوں میں سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات کے اکیس سال بعد 2005 میں اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پارلیمنٹ میں اس واقعے پر معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعہ سے انکا سر شرم سے جھک گیا تھا۔سجن کمار نے 18 دسمبر 2018 کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں سے ایک مقدمہ میں مجرم ٹھہرائے جانے کے بعد کانگریس پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
No Comments: