Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

فیصل مہربان قریشی کی تجویز کومختلف حلقوں میں قابل غور اور عملی سوچ پر مبنی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

نوجوان نسل میں اس نوعیت کے خیالات کا سامنے آناملک و معاشرے کیلئے مثبت:بھائی مہر بان قریشی

نئی دہلی،27ستمبر (میرا وطن نیوز)
نوجوان سماجی کارکن اور ابھرتے ہوئے بزنس مین فیصل مہربان قریشی کی جانب سے ملک کے مسلما نو ں کے لیے روزانہ صرف ایک روپیہ اجتماعی طور پر جمع کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد اسے مختلف حلقوں میں قابلِ غور اور عملی سوچ پر مبنی تجویز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فیصل مہربان قریشی نے اپنے ایک بیان میں مشورہ دیا ہے کہ اگرآبادی کے تناسب سے ملک کا ہر مسلمان روزانہ صرف ایک روپیہ نکالے تو اس معمولی رقم سے ایک بڑا اجتماعی فنڈ قائم کیا جاسکتا ہے، جس کے ذریعے تعلیم، طبی سہولیات اور روزگار کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر کام کیا جاسکتا ہے۔
اس تجویز پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دہلی سرکار کی غازی پور مرغا مچھلی منڈی کے سابق چیئر مین اور آل انڈیا جمیعت القریش دہلی پردیش کے صدر حاجی مہربان قریشی نے کہا کہ فیصل مہربان کی یہ سوچ ان کی اجتماعی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ایک روپیہ بہت معمولی رقم محسوس ہوتی ہے، لیکن جب یہی معمولی رقم بڑی تعداد میں لوگ مستقل طور پر جمع کریں تو یہی معمولی رقم ایک بڑے اجتماعی وسائل میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
حاجی مہربان قریشی نے کہا کہ فیصل مہربان نے اپنی تجویزکو صرف رقم جمع کرنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس فنڈ کو تعلیم، علاج اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں سے جوڑنے کی بات کی ہے، جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کے اہم ستون ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم کے شعبے میں مستحق طلبہ کی مدد، طبی میدان میں ضرور ت مند افراد کے علاج اور روزگار کے شعبے میں نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے کے لیے ایسے اجتماعی وسائل کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حاجی مہربان قریشی نے فیصل مہربان کی ذہانت، دوراندیشی اور اجتماعی سوچ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں اس نوعیت کے خیالات کا سامنے آنا مثبت بات ہے۔ ان کا کہناہے کہ اگر کوئی تجویز معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنی استطاعت کے مطابق اجتماعی طور پر کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے شفاف نظام، باقاعدہ نگرانی اور واضح ترجیحات کا تعین ضروری ہوگا۔ مسٹرقریشی نے کہا کہ آج کے دور میں معاشرے کی ترقی کے لیے اجتماعی سوچ اور باہمی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تازہ تجویز کی اہمیت اس بات میں ہے کہ اس میں ہر فرد کو معاشرے کی بہتری میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔
بھائی مہربان قریشی نے کہا کہ کسی بھی اجتماعی فنڈ کی کامیابی کے لیے شفافیت، باقاعدہ نگرانی، واضح ترجیحات اور قابلِ اعتماد انتظامی نظام ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق اگر فیصل مہربان کی تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے ایک منظم اور شفاف طریقہ کار تیار کیا جائے تو اس کے ذریعے فلاحی سرگرمیوں کے لیے مستقل وسائل پیدا کرنے کی سمت میں پیش رفت ممکن ہے۔
جمیعت القریش دہلی کے صدرمہربان قریشی نے کہاکہ اپنے ہرعمل میں ملک اورسماج کوترجیح دیں کیونکہ ملک تبھی ترقی کرے گاجب سماج کا ہر طبقہ خوشحال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روزآنہ ایک روپیہ جمع کرنے کی تجویز سے ایک بڑا فنڈ قائم ہوسکتا ہے جس سے سماج میں خوشحالی آئے گی اور اسی کے ساتھ ہمارا ملک تیزی سے آگے بڑھے گا کیونکہ اس کا فائدہ ہر ہندوستانی شہری کو ہوگا۔
مہربان قریشی نے کہا کہ فیصل مہربان کی تجویز نوجوانوں کو بھی اجتماعی ذمہ داری، باہمی تعاون اور سماجی خدمت کے میدان میں اپنا کردار ادا کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تجویز پر اہل دانش، سماجی کارکنان اور متعلقہ حلقے سنجیدگی سے غور کریں گے اور اسے ایک منظم فلاحی منصوبے کی شکل دینے کے امکانات پر بات چیت آگے بڑھائیں گے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *