Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

بی جے پی کی ریکھا گپتا سرکارآخر کاردہلی وقف بورڈ کی تشکیل نو کب تک کرے گی !

بیوہ، نادار اور مستحق خواتین کو دیا جانے والا 2500 ماہانہ وظیفہ تین سال سے بندہے
دہلی کی مختلف مساجد کے ائمہ اور مو ¿ذنین کئی ماہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں
چند برسوں کے دوران متعدد ، مساجد ، درگاہو ں اور قبرستانوں پر انہدامی کارروائیاں ہوئیں
سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی کا ایل جی اور وزیر اعلیٰ سے سوال
وقف بورڈ نہ ہونے کی وجہ سے نئی کرایہ داریاں، کرایہ اور بقایاجات کی وصو لی ، آمدنی کے نئے ذرائع پید ا کرنے، وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، قانونی معاملات، پالیسی ساز ی اور متعدد انتظامی فیصلے مسلسل رکے ہوئے ہیں

نئی دہلی ،28جولائی (میرا وطن نیوز )
دہلی سرکارکی جانب سے دہلی مائنارٹی کمیشن کی تشکیلِ نو کے بعد اب دہلی کے لاکھوں وقف مستفیدین کی نظریں دہلی وقف بورڈ کی تشکیلِ نو پر مرکوز ہیں۔ دہلی وقف بورڈ کی مدت 26 اگست 2023 کو ختم ہو چکی تھی، مگر تقریباً تین برس گزرنے کے باوجود آج تک نیا بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا، جس کے نتیجے میں وقف انتظامیہ، فلاحی منصوبے اور وقف املاک کا تحفظ شدید متاثر ہوا ہے۔
سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ وقف بورڈ کا قیام صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ وقف ایکٹ 1995 کے تحت ایک لازمی قانونی ذمہ داری ہے۔ بورڈ کی عدم موجودگی میں متعدد اہم فیصلے التوا کا شکار ہیں جنہیں صرف ایک باقاعدہ تشکیل یافتہ وقف بورڈ ہی انجام دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک ہزار بیوہ، نادار اور مستحق خواتین کو دیا جانے والا 2500 ماہانہ وظیفہ گزشتہ ساڑھے تین برس سے بند ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔اسی طرح دہلی کی مختلف مساجد کے ائمہ اور مو ¿ذنین کئی ماہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ تاریخی مدرسہ عالیہ، شاہی مسجد فتح پوری کے ملازمین کو بھی تقریباً چھ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں، جس سے ادارے کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ نہ ہونے کی وجہ سے نئی کرایہ داریاں، کرایہ اور بقایاجات کی وصو لی ، آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے، وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، قانونی معاملات، پالیسی ساز ی اور متعدد انتظامی فیصلے مسلسل رکے ہوئے ہیں۔
محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ عدالتوں میں زیر التواءمتعدد مقدمات میں بھی ضروری قانونی فیصلے برو قت نہیں ہو پا رہے ہیں، جبکہ مستحق طلبہ کو ملنے والی تعلیمی اسکالرشپس بھی کئی برسوں سے تقسیم نہیں کی جا سکیں ۔انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران دہلی کی متعدد وقف املاک، مساجد ، درگاہو ں اور قبرستانوں پر انہدامی کارروائیاں ہوئیں۔ اگر ایک بااختیار وقف بورڈ موجود ہوتا تو ان معاملات میں بروقت قانونی اور انتظامی اقدامات ممکن تھے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ دہلی سرکار کے محکمہ ریونیو نے 30 اگست 2023 کو خود اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وقف بورڈ کی مدت ختم ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود آج تک نیا بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا۔ بعد ازا ں صرف ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا، جو قانونی طور پر وقف بورڈ کا مستقل متبادل نہیں ہو سکتا۔
محمد شاہد گنگوہی نے دہلی سرکار، ایل جی اور مرکزی وزارتِ اقلیتی امور سے مطالبہ کیا کہ جس طرح دہلی مائنارٹی کمیشن کی تشکیلِ نو کی گئی ہے، اسی طرح دہلی وقف بورڈ کی تشکیلِ نو بھی فوری طور پر مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے تاکہ وقف املاک کا تحفظ، فلاحی منصوبے، ائمہ و مو ¿ذنین اور ملازمین کی تنخواہیں، طلبہ کی اسکالرشپس اور وقف اداروں کا نظام دوبارہ مو ¿ثر طریقے سے چل سکے۔انہوں نے کہا کہ دہلی وقف بورڈ کی تشکیلِ نو صرف مسلم برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، عوامی اوقاف کے تحفظ اور آئینی و قانونی اداروں کی فعالیت کا بھی اہم تقاضا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *