
نئی دہلی، 6جون(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی نے ایک فوت شدہ اور ایک معطل جونیئر انجینئر (جے ای) کے تبادلے کے حکم پر بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ایم سی ڈی میں قائد حز ب اختلاف انکش نارنگ نے کہا کہ یہ تبادلہ حکم نامہ بی جے پی کی زیر قیادت ایم سی ڈی کی ناقص انتظامیہ اور بدانتظامی کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایم سی ڈی کو اپنے ہی ملازمین کی موجودہ صورتحال کا بھی علم نہیں ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس تبادلہ حکم کی مکمل جانچ کرائی جائے اور فوت شدہ اور معطل ملازمین کے نام فہرست میں شامل کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اس سلسلے میںانکش نارنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایم سی ڈی کی جا نب سے جاری کردہ تبادلہ فہرست شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملازم کی وفات کے سات ماہ بعد اس کا تبادلہ کرنا بی جے پی کے زیرِ اقتدار ایم سی ڈی کی کارکردگی کی حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ کئی ماہ قبل انتقال کر جانے والے جے ای اپورو بھٹناگر کا نام تبادلہ فہرست میں شامل کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال سے معطل جے ای اتل کمار سمن کا نام بھی اس فہرست میں موجود ہے۔
انکش نارنگ نے کہا کہ اس تبادلہ حکم کی فوری تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ معلوم کیا جائے کہ فوت شدہ ملازمین کے نام فہرست میں کس افسر نے شامل کیے اور ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی مستقبل میں ایسی غلطیوں کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹل تصدیقی نظام نافذ کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کے زیرِ اقتدار ایم سی ڈی بغیر کسی تصدیق کے فا ئلیں چلا رہی ہے؟ کیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (انجینئرنگ)کو اپنے ہی محکمے کے ملازمین کی صورتحال کا علم نہیں؟ جب فوت شدہ، معطل اور ملازمت میں نہ رہنے والے افراد کے تبادلے کیے جا رہے ہوں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں انتظامی نظام کس حد تک زوال کا شکار ہو چکا ہے۔
انکش نارنگ نے کہا کہ جمعہ کے روز ایم سی ڈی کے انجینئرنگ محکمہ کا ایک خط سامنے آیا ہے جس کا نمبر 165 ہے۔ یہ خط 5 جون کو جاری کیا گیا تھا۔ اس خط میں دو افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک اپورو بھٹناگر ہیں جن کا انتقال سات ماہ قبل ہو چکا ہے، جبکہ دوسرے اتل کمار سمن ہیں جو جے ای (سول) ہیں اور گزشتہ نو ماہ سے معطل ہیں، لیکن ان کا بھی تبادلہ کر دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس خط پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے باقاعدہ دستخط بھی موجود ہیں۔
انکش نارنگ نے سوال کیا کہ کیا ایم سی ڈی کے افسران سو رہے ہیں؟ جب سے ایم سی ڈی میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، تب سے اس طرح کی بے ضابطگیاں مسلسل جاری ہیں۔ محکمہ تعلیم میں بھی غلط سینیارٹی اور پروموشن فہرستیں بنائی جاتی ہیں اور تبادلہ فہرستیں مبینہ طور پر پیسے لے کر تیار کی جاتی ہیں۔ آخر بی جے پی کرنا کیا چاہتی ہے؟ کیا یہ بی جے پی اور بعض افسران کی ملی بھگت سے جان بوجھ کر رچی گئی سازش ہے؟ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی عام آدمی پارٹی نے ان ناموں کو بے نقاب کیا، ایم سی ڈی نے فوری طور پر اپنا حکم واپس لے لیا اور اس تبادلہ فہرست کو منسوخ کر دیا۔
انکش نارنگ نے کہا کہ بی جے پی رہنما ¶ں کو شرم آنی چاہیے۔ وہ افسران کی ملی بھگت سے دہلی کے عوام کو آخر کب تک لوٹتے رہیں گے اور ان کی جانوں سے کب تک کھیلتے رہیں گے؟ بی جے پی کے میئر پرویش واہی تاریخ کے سب سے ناکام میئر ثابت ہوئے ہیں، جن کے دورِ اقتدار میں نہ یہ معلوم ہو پاتا ہے کہ آگ کیسے لگی اور نہ یہ کہ عمارت کیسے گر گئی۔ ان کے دور میں تبادلوں میں اتنا بڑا گھپلا سا منے آ رہا ہے۔
آخر میئر کیا کر رہے ہیں اور ان افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ انجینئرنگ محکمہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو اب تک برطرف کیوں نہیں کیا گیا؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میئر پرویش واہی اور بی جے پی نے اپنی سازباز کے تحت یہ خط جاری کروایا ہے۔ بی جے پی، میئر اور انجینئرنگ محکمہ کو ان سوالا ت کے جواب ضرور دینے ہوں گے۔
No Comments: