Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی کی 92کالونیوں پر’او-زون‘ کا مسئلہ کانگریس کی طرف سے پیدا کردہ ’جن‘ ہے

اروند کجریوال سرکار نے گزشتہ اپنے11 سالوں میں اسے حل کرنے کےلئے کچھ نہیں کیا

طویل عرصے سے قائم کسی بھی گاو ¿ں یا کالونیوں کو منہدم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
متعلقہ علاقوں کے لوگ اس معاملے پر حتمی فیصلہ آنے تک کوئی نئی تعمیر شروع کرنے سے گریز کریں
بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ منوج تیواری اور رام ویر سنگھ بدھوڑی کی پریس کانفرنس میں اپیل

نئی دہلی، 9 جون(میرا وطن نیوز )
جمنا کنارے رہنے والے لاکھوں لوگوں کے سر پر ’او -زون ‘کی وجہ سے لٹکی تلوارکے متعلق دہلی بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ منوج تیواری اور رام ویر سنگھ بدھوڑی نے منگل کوریاستی دفتر میںمنعقد ایک مشتر کہ پر یس کانفرنس میں وضاحت کی ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مرکزی اور دہلی سرکاریں، نیز د ہلی بی جے پی تنظیم، ان کے تحفظات کے بارے میں حساس ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بی جے پی طویل عرصے سے قائم کسی بھی گاو ¿ں یا کالونیوں کو منہدم کرنے کی اجازت نہیں دے گی جنہیں پہلے باقاعدہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’او-زون‘ کا مسئلہ کانگریس کی طرف سے پیدا کردہ ’جن‘ ہے، اس کے باوجود اروند کجریوال سرکار نے گزشتہ11 سالوں میں اسے حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
ان دونوں قد آور لیڈروں نے دہلی بی جے پی کے میڈیا ہیڈ پروین شنکر کپور اور آفس ہیڈ برجیش رائے کی موجودگی میں پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پررام ویر سنگھ بدھوڑی نے کہا کہ دیہاتوں اور 92 کالو نیوں میں موجودہ بستیوں کو مسمار کر نے کی اجازت نہیں دی جائے گی جنہیں فی الحال ’او-زون‘کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ دہلی ہائی کور ٹ کا حکم صرف نئی تعمیرات پر لاگو ہوتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے ان علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ آنے تک کوئی نئی تعمیر شروع کرنے سے گریز کریں۔
رام ویر سنگھ بدھوڑی نے کہا کہ ان کالونیوں کو 24 مارچ 2008 کے اوائل میں باقاعدہ مستقل گیا تھا اور اس وقت یہ علاقے ’او-زون‘ کے بجائے ’ایف زون‘ کے تحت آتے تھے۔ 10 اگست 2010 کو مرکز اور دہلی میں کانگریس کی سرکاروں نے ان علاقوں کو یمنا ’او-زون‘کا حصہ قرار دیا۔ ان کالونیوں کے مکینوں کے احتجاج کے بعد ڈی ڈی اے نے 28 ستمبر 2013 کو ایک مسودہ نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں انہیں ’او-زون‘ سے ’ایف-زون‘ میں دوبا رہ درجہ بندی کرنے کی تجویز دی گئی۔ اگرچہ مسودہ نوٹیفکیشن کو اس وقت کے مرکزی وزیر برائے شہری ترقیات سے منظوری مل گئی تھی، لیکن اسے ابھی تک باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکار کی پرنسپل کمیٹی اور ڈی ڈی اے پہلے ہی فز یکل ڈیمارکیشن کر چکے ہیں، اور ایک ماہر کمیٹی نے کہا ہے کہ یہ گاو ¿ں اور کالونیاں دریا کے بہاو ¿ یا پانی کے معیار کو بری طرح متاثر نہیں کرتی ہیں۔
دہلی بی جے پی کے سابق صدر اور شمال مشرقی دہلی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے کہا کہ آج جن علاقوں پر غلط طریقہ سے ‘O-Zone’ لگا ہوا ہے ،اس کو درست کرنے کا عمل پہلے ہی شروع کر چکے ہیں۔ انہوں نے دہلی کی غیر مجاز کالونیوں سے ’غیر مجاز‘ حیثیت کے داغ کو دور کرنے کی کوششوں کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ منوج تیواری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سرکار کا فیصلہ ہے جس کے بعد ’او-زون‘ علاقوں کے لوگوں نے بھی بجلی کے میٹر کنکشن ملنے لگے ہیں۔
منوج تیواری نے کہا کہ اپوزیشن کی ‘او-زون’ مسئلہ کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی حالیہ کوشش محض عام آدمی پارٹی کی پچھلی دہائی میں ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔عام آدمی پارٹی ’او-زون‘ علاقے میں واقع گھروں میں بجلی کے میٹر لگانے میں بھی ناکام رہی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے براڑی ایم ایل اے خود سرکاری زمین پر بنائے گئے مکان میں مقیم ہیں اور انہیں اپنے ہی گھر کے منہدم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے وہ اس وقت لوگوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کر رہا ہے۔ اس لیے میں دہلی کے باشندوں سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ وہ خوفزدہ یا گمراہ نہ ہوں، کیونکہ کسی کو بھی ان کے گھروں سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *