Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ایل جی کی مداخلت کا بہانہ بنا کر عمر عبد اللہ سرکار اپنے انتخابی وعدوں سے فرار اختیار کررہی ہے

عمر عبد اللہ نے200یونٹ مفت بجلی ،بس ملازمین اور کیزول لیبر کو مستقل کا وعدہ پورا نہیں کیا

ریاست کا بجٹ ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے ہے لیکن سرکار صرف 20ہزار کروڑ ہی خرچ پا رہی ہے :معراج ملک

نئی دہلی، 19جون(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے جموں و کشمیر کے ریاستی صدر اور ڈوڈہ سے رکن اسمبلی معراج ملک نے عمر عبداللہ سر کا ر کو اپنے انتخابی وعدے پورے نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی مداخلت کا بہانہ بنا کر عمر عبداللہ سرکار اپنے انتخابی وعدوں سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے ۔ عمر عبداللہ نے 200یونٹ مفت بجلی، بس ملازمین اور کیژول لیبر کو مستقل کرنے کا وعدہ کیا تھا ،لیکن آج تک یہ وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
جمعہ کودہلی واقع آپ ہیڈکوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں معراج ملک نے کہا کہ ہر سال ریاست کا بجٹ تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے ہوتا ہے، لیکن موجودہ سرکار صرف 20ہزار کروڑ روپے ہی خرچ کر پا رہی ہے۔ اگر ای ڈی پارٹی کی حکمرانی اور مرکز کی پالیسیوں کی وجہ سے سرکار کام نہیں کر پا رہی تو یہ جمو ں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ عوام کے حقوق پر سرعام ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور عمر عبداللہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر معراج ملک نے کہا کہ وہ آٹھ ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی گزار چکے ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام نے جس مینڈیٹ کے ساتھ سرکار منتخب کی تھی، آج اس مینڈیٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلی بار دہلی سے ملک اور دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے، زمینی حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ عوام نے ووٹ دے کر سرکار بنائی، لیکن آج حکومت کو جن مشکلات کا سامنا ہے، وہ سب کے سامنے ہیں۔
معراج ملک نے کہا کہ جب نئی سرکاربنی اور پہلا بجٹ پیش کیا گیا تو عوام کو اس سے بڑی امیدیں وا بستہ تھیں، لیکن ان امیدوں پر کوئی عمل ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ اس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ اس سال کا بجٹ بھی اسی طرح کا ہے۔ جموں و کشمیر کا بجٹ تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے دکھایا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر صرف 20 ہزار کروڑ روپے کے قریب خرچ ہوتا ہے۔ آج ریاست میں غربت اور تنگدستی نمایاں نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب نیشنل کانفرنس (این سی)کی سرکار بنی تو انہیں اپنے منشور پر عمل کرنے کا پورا حق حاصل تھا۔ ہم بھی کچھ عرصے تک ان کے اتحاد کا حصہ رہے، لیکن وہ بھی عوامی مسائل پر پورا نہیں اتر سکے۔ ان کے منشور میں 200 یونٹ مفت بجلی، بس ملازمین اور کیژول لیبر کو مستقل کرنے کا وعدہ تھا، لیکن یہ وعدے زمین پر کہیں نظر نہیں آتے۔ جب ہم نے سوال اٹھائے تو جواب ملا کہ ایل جی کی سرکار ہے اور مرکز کی مداخلت رہتی ہے۔
معراج ملک نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہیے تھے، کیونکہ یہ ان کا اپنا منشور تھا۔ وہ اپنے منشور پر عمل نہیں کر رہے اور ان کی خاموشی انہیں بولنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ہم عوام کے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتے۔ عوام نے ہمیں طاقت دی ہے اور اگر ای ڈی پارٹی کی حکمرانی کی وجہ سے ہم خاموش رہیں تو یہ ایک بڑا گناہ ہوگا۔ مرکز کی سرکار جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ وہاں ایل جی کا ایسا نظام قائم کیا گیا ہے جہاں عام آدمی کو اپنی بات کہنے کا مکمل حق حاصل نہیں۔ عوام کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور عمر عبداللہ خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *