Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

بنگال کے نئے وزیر اعلیٰ ’سب کےلئے حکومت‘ کے آئینی حلف کی پاسداری کریں: مولانا محمود مدنی

نئی دہلی، 10 مئی (میرا وطن نیوز)
جمعیة علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مغربی بنگال کے نومنتخب وزیر اعلیٰ شویندو ادھیکاری کو متوجہ کیا ہے کہ وہ گورنر اور ریاست کے عوام کے سامنے لیے گئے اپنے آئینی حلف کی مکمل پاسداری کریں اور بلا تفریق تمام شہریوں کے ساتھ مساوی انصاف کو یقینی بنائیں۔مولانا مدنی نے یاد دلایا کہ حلف برداری کے وقت انہوں نے ایشور کو گواہ بنا کر یہ عہد کیا ہے کہ’ میں آئین اور قانون کے مطابق بلا خوف یا رعایت، بغیر کسی محبت یا عداوت کے، تمام طبقات کے ساتھ انصاف کروں گا۔‘
مولانا مدنی نے کہا کہ یہ آئینی عہد محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ اپنے منصب کے تئیں قانونی ذمہ دا ری کا اظہارہے۔ اس عہد کے بغیر نہ کوئی شخص وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے اور نہ ہی اس منصب پر برقرار رہنے کا اخلاقی جواز رکھتا ہے۔مولانا مدنی نے یہ بات وزیر اعلیٰ کے اس سابقہ بیان کے تناظر میں کہی جس میں انہوں نے برملا اظہار کیا تھا کہ وہ ’صرف ہندوو ¿ں کے لیے کام کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات بھارت کے سیکولر تانے بانے، جمہوری اقدار اور آئین سے متصادم ہیں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ اقتدار کسی ایک مذہب یا سیاسی گروہ کی جاگیر نہیں بلکہ پورے عوام کی امانت ہے جس میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور تمام طبقات شامل ہیں۔
مولانا مدنی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا حوالہ د یتے ہوئے سوال کیا کہ کیا مذہبی بنیادوں پر امتیاز کی بات کرنا اس دعوے کے خلاف نہیں ہے۔ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم اس کا جواب ضرور دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکارواقعی ’سب کا وشواس ‘چاہتی ہے تو اسے اپنی زبان اور عمل دونوں میں آئینی غیر جانب داری، مساوات اور انصاف کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔مولانا مدنی نے کہا کہ بنگال کے عوام نفرت انگیز سیاست یا مذہبی تقسیم نہیں بلکہ حقیقی ترقی اور مو ¿ثر حکمرانی چاہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت صرف مسلمانوں کے لیے کام کرے، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ پورے بنگال اور تمام شہریوں کے لیے کام کرے۔ عوام کو صاف پانی، صاف فضا، بہتر سڑکیں، معیاری تعلیم، روزگار، سرمایہ کاری، کسانوں اور چھوٹے تاجروں کے لیے انصاف، امن و قانون کی بالادستی اور غریبوں کے وقار کا تحفظ درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی نہ مسجد اور مندر کے دروازے پر رکتی ہے اور نہ بنیادی سہولیات مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی جا سکتی ہیں۔ اگر ترقی واقعی اسی فیصد عوام تک پہنچے گی تو باقی بیس فیصد بھی اس سے محروم نہیں رہیں گے۔ جب صاف ہوا چلے گی تو وہ صرف ہندوو ¿ں کی سانسوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ہر شہری اس سے فائدہ اٹھائے گا۔
مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیة علماءہند کسی بھی سرکار کی سیاسی مخالفت نہیں کرتی۔ جہاں حقیقی عوامی فلاح، ترقی اور انصاف نظر آئے گا، جمعیة علماءہند اس کا خیر مقدم کرے گی۔ تاہم اگر حکمرانی فرقہ وارا نہ امتیاز، نفرت یا آئینی اصولوں سے انحراف کی بنیاد پر ہوگی تو ملک کے شہریوں اور اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جمہوری اور قانونی راستوں کے ذریعے انصاف اور آئینی تحفظ حاصل کریں۔
مولانا مدنی نے ہندستان کی وحدت، تکثیریت، مذہبی ہم آہنگی اور آئینی نظام کے تئیں جمعیة علماءہند کے تاریخی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم ملک کے ہر شہری کے حقوق، عزت اور مساوی انصاف کے تحفظ کے لیے ہمیشہ جمہوری، پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *