
سیانا کا علاقہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ قسم کے چوسا آم پیدا کرنے کےلئے مشہور:ڈاکر ببن میاں
نئی دہلی/بلند شہر ،7جون (میرا وطن نیوز )
اتر پردیش ریاستی ترقی، رابطہ کاری اور نگرانی کمیٹی (دیشا) کے رکن ڈاکٹر زبید الرحمان (ببن میاں) کی قیادت میں وفد نے زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت، حکومت ہند میں زراعت کمشنرڈاکٹر پی کے سنگھ سے ملا قات کی۔ انہوں نے بلند شہر ضلع کی تحصیل سیانہ میں چوسا آم کے درختوں کو ہونے وا لے شدید نقصا ن کے بارے میں معائنہ اور ماہر کی مدد کے لیے ایک باضابطہ درخواست پیش کی۔
اس خط میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ سیانا کا علاقہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ قسم کے چوسا آم پیدا کرنے کے لیے مشہور ہے، جہاں آم کی تقریباً دس بڑی اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔ تاہم اس سال چوسا آم کے متعدد درخت شدید متاثر ہوئے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا ہے جس سے مقامی کسانوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ڈاکٹر زبید رحمٰن خان نے کہا کہ ضلعی محکمہ زراعت کے افسران کے ساتھ بات چیت نے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کر نے اور کسانوں میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اس مسئلے کی وجوہات اور ممکنہ حل کے حوالے سے تربیت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکر ببن میاںنے ایگریکلچر کمشنر سے درخواست کی کہ وہ متعلقہ سائنسدانوں اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے عہدیداروں کو ہدایت دیں کہ وہ خطے کا مطالعہ کریں اور متاثرہ کسانوں کو ضروری تکنیکی رہنمائی اور حل فراہم کریںگے ۔انہوںنے اس یقین کا اظہار کیا کہ وزارت زراعت اور ماہرین کے اداروں کے تعاون سے خطے کے ہزاروں آم کے کاشتکاروں کو ریلیف ملے گا اور آم کی پیداوار میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
میٹنگ کے دورانزراعت کمشنرڈاکٹر پی کے سنگھ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کسانوں کے سیمینار اور بیدا ری پروگرام میں شرکت کرنے کی کوشش کریں گے، اور اس بات کی تصدیق کی کہ آئی سی اے آر (خا ص طور پر سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر، رحمان کھیڑا، لکھنو ¿ سے) کے ماہرین ضرور شر کت کریں گے۔
انہوں نے سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر (آئی سی اے آر) لکھنو ¿ کے ڈائریکٹر کے سا تھ فون پر بھی اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا اور اس کے مطابق ہدایات جاری کیں۔اس ملاقات کے دو ران اتر پردیش ریاستی ترقی، رابطہ کاری، اور نگرانی کمیٹی (دیشا) کے ایک اور رکن کرشنا گوتمبھی میٹنگ میں موجود تھے۔
No Comments: