
نئی دہلی، 3جون(میرا وطن نیوز)
مودی سرکارمیں ملک کی معاشی حالت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ اب سرکار کو ملک کا سونا بیچنا پڑ رہا ہے ۔ بلومبرگ کی حالیہ رپورٹ میں اس انکشاف کے بعد پورے ملک میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال سمیت کئی سینئر رہنما ¶ں نے ملک کا سونا فروخت کیے جا نے پر نہ صرف مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے معاشی حالات عوام کے سامنے واضح کریں۔ اروند کجریوال نے اس انکشاف پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ خبر درست ہے؟ کیا واقعی ملک کا سونا بیچا جا رہا ہے؟ کیا حکومت اتنی زیادہ کنگال ہو گئی ہے؟
بلومبرگ کی رپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اروند کجریوال نے کہا کہ گزشتہ 76برسوں میں کئی ایسے مواقع آئے جب ملک مشکل حالات سے دوچار تھا، لیکن کبھی بھی ملک کا سونا فروخت نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ حالات بہت زیادہ خراب ہیں؟ سرکار کچھ بتاتی کیوں نہیں؟ ملک کے حالا ت کیا ہیں؟ مودی جی کہتے ہیں کہ وہ تو جھولا اٹھا کر چلے جائیں گے، لیکن ہمیں تو یہیں رہنا ہے، اسی ملک میں رہنا ہے۔
ادھر آپ کے سینئر رہنما اور پنجاب کے انچارج منیش سسودیا نے کہا کہ کچھ دن پہلے تک عوام کو یہ سمجھایا جا رہا تھا کہ سونا مت بیچو، سونا مستقبل کی حفاظت ہے۔ اب بلومبرگ کی اس رپورٹ میں انکشاف ہو رہا ہے کہ مودی جی نے خود ہی ملک کا سونا بیچ ڈالا۔ اگر ملک کو چلانے کے لیے سونے کے ذخائر فرو خت کرنے جیسی مجبوری پیدا ہو گئی ہے، جو بھارت کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئی، تو عوام کو صاف صاف بتایا جانا چاہیے کہ معاشی حالات کیا ہیں۔ سرکار سامنے آئے اور سچ بتائے۔ ملک کو تشہیر نہیں بلکہ شفافیت چاہیے۔
وہیں عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے ایکس پر کہا کہ ریل، سیل، تیل، کوئلہ، گیس، بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور آپ کا کاغذ بیچنے کے بعد، آزاد بھارت کی تاریخ میں پہلی بار مود ی نے ایک لاکھ چودہ ہزار کروڑ روپے مالیت کا ملک کا سونا بھی بیچ دیا۔ ملک کی معاشی حالت انتہائی سنگین ہے۔مودی تو جھولا لے کر چلے جائیں گے، آپ سوچئے آپ کا کیا ہوگا؟
پارٹی کی چیف ترجمان پریانکا ککڑ نے ایکس پر کہا کہ نریندر مودی کی نظر گزشتہ سال سے ہی خواتین کے استری دھن پر تھی، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ انہوں نے بھارت کی معیشت کا برا حال کر دیا ہے ۔انہو ں نے کہا تھا کہ ہماری ما ¶ں اور بہنوں کے پاس سونا ہوتا ہے۔ یہ سونا صرف دکھاوے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ چاہے کتنا ہی کم کیوں نہ ہو، وہ استری دھن ہوتا ہے، اسے مقدس سمجھا جاتا ہے اور قانون بھی اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اب قانون بدل کر ان کی نظر ہماری ما ¶ں اور بہنوں کی ملکیت چھیننے پر ہے اور اسی مقصد کے تحت یہ سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
No Comments: