Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی ایس آئی آر:

نوٹس جاری کرنے کے طریقہ کار پر سپریم کورٹ نے ظاہر کی تشویش

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نوٹس کسی مشین کے ذریعہ جاری کیے گئے ہیں

نئی دہلی، 22 ستمبر (میرا وطن نیوز)
سپریم کورٹ نے دہلی میں خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے منطقی تضادات سے متعلق نوٹس جاری کرنے کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نوٹس کسی مشین کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے منگل کو معاملے کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا۔ عدالت سماجی کارکن انجلی بھاردواج کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ جن لوگوں کو منطقی تضادات کی بنیاد پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں، ان کی تفصیلی معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔ چیف جسٹس نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ 2019 میں چنڈی گڑھ سے دہلی منتقل ہوئے تھے۔ اگر اب وہ دہلی میں ووٹ ڈالیں اور انہیں منطقی تضاد کا نوٹس دیا جائے تو یہ بتانا ضروری ہوگا کہ اس کی بنیاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بوتھ لیول افسر کو بھی اس معاملے میں حساس اور تربیت یافتہ ہونا چاہیے۔
اس سے قبل 17 ستمبر کو اسی معاملے کی مینشننگ کے دوران وکیل پرشانت بھوشن نے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ سے کہا تھا کہ دہلی میں خصوصی گہری نظرثانی کے دوران پہلے ہی 47 لاکھ ووٹروں کے نام مسودہ ووٹر فہرست سے خارج کر دیے گئے تھے۔ اب الیکشن کمیشن نے منطقی تضاد کے تحت 33 لاکھ افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ یہ پورا عمل ہی مبہم ہے۔
مینشننگ کے دوران پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے کی بنیاد کا انکشاف نہیں کیا ہے، حالانکہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اس کی تفصیلات ظاہر کرنا ضرور ی ہے۔ کچھ لوگوں کو نوٹس ملے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو نوٹس نہیں ملے۔ نوٹس میں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا ہے کہ انہیں کیوں طلب کیا جا رہا ہے۔ بھوشن نے کہا کہ ووٹروں کو یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ ان کا نام منطقی تضاد کے زمرے میں کیسے آیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورا عمل ہی واضح نہیں ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *