
نئی دہلی،24اکتوبر(میرا وطن نیوز )
عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے سرکاری اسکولوں میں تقسیم کی گئی کتابوں کی چھپائی میں کمیشن خوری کے معاملے پر وزیر تعلیم آشیش سود کے جواب پر پلٹ وار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخرکار وزیر تعلیم آشیش سود نے تسلیم کر لیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تقسیم کی گئی کتابیں این سی ای آر ٹی کی کتابوں کے مقابلے میں سائز میں چھوٹی ہیں۔ انہیں وینڈر کے خلاف جرمانہ عائد کرنے کی تجویز سے متعلق فائل کو عام کرنا چاہیے۔ انہوں نے آشیش سود کو کھلے عام بحث کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ وزیر آشیش سود نے کم از کم یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ دہلی سرکارکی جانب سے سرکاری اسکولوں میں تقسیم کی جانے والی کتاب ملہار کا سائز این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے چھوٹا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ بچوں کو پریشانی ہوگی۔ لیکن آشیش سود نے ایک انتہائی اہم بات کو چھپا لیا۔ وہ یہ ہے کہ ٹینڈر میں کتابوں کی چھپائی کے معیار اور کاغذ کے معیار کے بارے میں کیا شرائط رکھی گئی تھیں۔ ٹینڈر میں واضح طور پر درج ہے کہ کتابوں میں استعمال ہونے والے کاغذ کا معیار 80جی ایس ایم ہونا چاہیے، لیکن سرکار کی جانب سے تقسیم کی گئی کتابوں میں استعمال ہونے والا کاغذ تقریباً 60جی ایس ایم کا ہے اور چھپائی کا معیار بھی انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کتابوں میں استعمال ہونے والے کاغذ کے معیار اور جی ایس ایم کی جانچ کسی بھی لیبارٹری میں کرائی جائے، اس سے آشیش سود کیوں گھبرا رہے ہیں؟ ریکھا گپتا سرکار کو چاہیے کہ جانچ کرا کر سچائی سب کے سامنے لائے۔
No Comments: