
جامعہ کے تدریسی اور غیر تدریسی عملہ نے کیمپس میں قابل اعتراض نعروں کی مذمت کی
نئی دہلی ،24اکتوبر (میرا وطن نیوز )
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے کو لے کرطلباءکا احتجاج اور بھوک ہڑتال جا ری ہے ۔احتجاج کر رہے طلبہ اور ثالثی کے لئے جامعہ کے ذریعہ تشکیل کمیٹی کے درمیان لاکھ کوششوں کے باوجو د بھی کوئی رضا مندی نہیں بن پائی ہے۔جبکہ مختلف اراکین پارلیمنٹ کا وائس چانسلر کو مکتوب لکھنے کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ روز کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے بھی خط لکھ اس مسئلے کو حل کر نے کی درخواست کی ہے۔بہر حال اس معاملے میں فی الحال کوئی حل نہیں نکلتا دیکھ انتظامیہ نے سخت فیصلہ لیا ہے جس کے مطابق اب تمام کورسز میں آن لائن موڈ میں کلاسزچلیں گی ۔
اس سلسلے میں جامعہ کی ہائی لیول کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ دو دہائی پرانے مسئلے کو حل کرنے کے لیے یو نیورسٹی کی جانب سے کی گئی فوری کوششوں کے باوجود، احتجاج کرنے والے طلبہ اپنے مو قف پر اڑے ہوئے ہیں۔ کمیٹی کے اراکین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مظاہرین سے رابطے کی مسلسل کوششوں کے ساتھ ساتھ، یونیورسٹی نے21 اکتوبر کو ایک اور اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ’ان تمام طلبہ کے خلاف کی گئی یا شروع کی گئی تادیبی کاروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا جو 26اکتوبر ( 12اکتو بر 2026) سے21 اکتوبر 2026 کی شام ساڑھے پانج بجے تک کے واقعات کی بنیاد پر احتجاج میں شریک تھے ۔’تاہم اس اقدام سے بھی احتجاج کرنے والے طلبہ مذا کرات کی میز پر نہیں آئے۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے برعکس طلبہ اپنے موقف پر اڑے رہے اور مقامی، علاقائی اور قومی سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے رہنما ¶ں اور نمائندوں کو بلا کر کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا۔ اساتذہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان پیش رفتوں سے کیمپس کا ماحول مزید خراب ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ا فراتفری، بدمعاشی، توڑ پھوڑ اور یونیورسٹی کی دیواروں کو مزید مسخ کیے جانے جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دو قراردادوں کی متفقہ منظوری کے بعد جامعہ کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے انصاری آڈیٹوریم کے لان سے ایک مارچ نکالا۔ جو گیٹ نمبر 13سے ہوتا ہوا ،مرکزی سڑک عبور کر کے گیٹ نمبر7 پر پہنچا ۔ اس کے بعد وہ احتجاجی مقام کی جانب بڑھا تاکہ طلبہ سے بات چیت کر سکیں اور انہیں احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کر سکیں۔
طلبہ کو احتجاج ختم کرنے اور کیمپس میں معمولات بحال کرنے پر قائل کرنے کی دو گھنٹے کی کوششوں کے باوجود، طلبہ نعرے لگاتے رہے اور مطالبہ کرتے رہے کہ اساتذہ’واپس چلے جائیں‘۔ انہوں نے اچانک سیکورٹی گارڈز، عملہ اور اساتذہ کو دھکہ دینا شروع کر دیا اور سینئر اساتذہ کی بار بار کی گئی اپیلوں کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ حالانکہ اسی ہفتے کے اوائل میں ان کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے۔ بالآخر اسا تذہ اور عملے نے احتجاجی مقام سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور واپس انصاری آڈیٹوریم چلے گئے ۔
دن بھر کے حالات کا نوٹس لیتے ہوئے ، انتظامیہ کو ایک اعلامیہ جاری کرنا پڑا جس کے تحت تمام کورسز کی کلاسیں فوری طور پر آن لائن منعقد کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر اور یونیورسٹی کے باقاعدہ طلبہ کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
تمام طلبہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی آن لائن کلاسوں کے نظام الاوقات کی پابندی کریں اور کیمپس آنے سے گریز کریں، کیونکہ جب تک کلاسیں آن لائن جاری رہیں گی اور یونیورسٹی کی جانب سے اگلا اعلامیہ جاری نہیں ہوتا، تب تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دروازے اور لائبریریاں بند رہیں گی۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جامعہ اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے مطالبے کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے سا تھ ثالثی کرنے کی غرض سے18 اکتوبرکو تشکیل دی گئی یونیورسٹی پروفیسران کی7 رکن پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی کی ہفتہ بھر جاری رہنے والی کوششوں کے دوران، ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ آج صبح جامعہ کے 15سے زائد تدریسی اور غیر تدریسی عملہ نے وائس چانسلرپروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرارپروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے ہمراہ یونیورسٹی کے انصاری آڈیٹوریم کے سبزہ میں اجلاس منعقد کیا تاکہ مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ اجلاس مذاکرات کے چار دور اور گزشتہ رات کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اس اپیل کے بعد منعقد ہوا جس میں طلبہ سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فیکلٹی ممبران اور عملہ نے توڑ پھوڑ کے واقعات اور کیمپس کی دیواروں پر انتہائی قا بل اعتراض نعرے لکھے جانے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات تعلیمی ماحول اور ایک سو چھ سالہ شاندار ورثے کی حامل اس درس گاہ کے وقار کو مجروح کرتے ہیں۔
اجلاس میں متفقہ طور پر دو قراردادیں منظور کی گئیں: پہلی قرارداد کے تحت، ملازمین نے فیصلہ کیا کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے اپیل کریں گے کہ وہ احتجاجی مقام کو خالی کر دیں اور احتجاج ختم کر دیں تا کہ کیمپس میں امن اور معمول کے حالات بحال ہو سکیں۔ خاص طور پر ’غالب مجسمہ لان ‘کے حوالے سے یہ بات کہی گئی، جس پر طلبہ نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے ، حالانکہ جامعہ میں احتجاج کے لیے ’گیٹ نمبر اٹھارہ کو مخصوص مقام کے طور پر طے کیا گیا ہے۔
دوسرے یہ کہ فیکلٹی اراکین اور عملہ نے ان دیواروں پر دوبارہ رنگ و روغن کرنے کا فیصلہ کیا جنہیں بد صو رت بنا دیا گیا تھا، اور ان نعروں کو مٹانے یا ڈھانپنے کا عزم کیا جنہیں انہوں نے انتہائی قابل مذ مت اور قوم کی سالمیت، سلامتی اور خودمختاری کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ ایسے نعرے جامعہ کی ساکھ اور وقار کو دیرپا اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ چند افراد کی حرکتوں کی وجہ سے ایک تاریخی ادارے کی ساکھ کو خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے ، خاص طور پر جب اس کے نتائج پوری یونیورسٹی برادری کو متاثر کر سکتے ہوں۔ اہم فریق کی حیثیت سے ، جنھوں نے جامعہ کے لیے دہائیوں تک خدمات انجام دی ہیں، اساتذہ کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی کو یرغمال بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر طلبہ کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹ اور غلط معلومات پر بھی شدید حیرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا، جو ادارے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وائس چانسلرپروفیسر مظہر آصف اوررجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچانا اور ملک کی سالمیت و خودمختاری کے خلاف قابل اعتراض نعرے لکھنا، جامعہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس سے طلبہ کے وقار و اعتبار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں ان کے مستقبل میں روزگار کے مواقع، ملازمت کے امکانات اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔
No Comments: