
نئی دہلی ،2جولائی (میرا وطن نیوز )
وزیر توانائی کے وزیر آشیش سود نے کہا کہ دہلی کے ڈسکام کے سی اے جی آڈٹ کا باضابطہ حکم شہر کے پاو ر سیکٹر میں شفافیت، جوابدہی اور اچھی حکمرانی کی طرف ایک تاریخی قدم ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ دہلی کے ہر بجلی صارف اور ایماندار ٹیکس دہندہ کی جیت ہے۔
آشیش سود نے کہا کہ پاور سیکٹر کی نجکا ر ی کے بعد برسوں تک مختلف مالیاتی فیصلے، خصوصی انتظامات اور مسلسل بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں عوامی جا نچ پڑتال سے بچ گئیں۔ عام آدمی پارٹی کی پچھلی سرکار نے نظام کی جانچ کرنے کے بجائے اسے بچانے کا کام کیا۔ ہماری سرکار نے چند مہینوں میں وہ کام شروع کر دیا ہے جو وہ دس سالوں میں نہیں کر سکے۔انہوںنے کہا کہ دہلی کے لوگوں کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ’ریگولیٹری اثاثے‘تقریباً 38ہزار کروڑ تک کیسے پہنچ گئے اور ان سے کس کو فائدہ ہوا، اس لیے کہ یہ بوجھ بالآخر شہریوں پر پڑا۔ سی اے جی آڈٹ ان تمام حقائق کو سامنے لائے گا۔
آشیش سود نے کہا، ’میں واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ دہلی میں کسی بھی ایماندار ٹیکس دہندہ کو کسی کے ذاتی مفادات، خصوصی احسانات، یا ناقص فیصلوں کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ عوامی پیسے کے ہر روپے کی حفاظت ہماری سرکار کی ذمہ داری ہے۔وزیر توانائی نے کہا کہ ہماری سرکار نے پورے عمل کو قانون کے مطابق اور مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا ہے۔ اب ہم تمام ڈسکام سے مکمل تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔دہلی کے لوگوں کے آشیرواد سے، ہم پاور سیکٹر کو ایک ایسے نظام میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو شفاف، جوابدہ اور مکمل طور پر عوامی مفاد میں کام کرتا ہے۔
No Comments: