
جدوجہدآزادی میں اسلاف کی قربانیاں ملک وملت کی تعمیر وترقی کیلئے رول ماڈل‘کے عنوان پر سمپو ز یم کا انعقاد
نئی دہلی،17 اگست(میرا وطن نیوز)
وطن عزیز کا ہر خاص وعام جانتا ہے کہ کتنی قربانیوں اور کس طرح کے خونچکاں حالات اور پرآشوب دور سے گزر کر ،خون جگر جلا کر ،گردن کٹا کر،مصیبتیں جھیل کر اور دار ورسن کے منازل طے کرکے صبح آزادی نصیب ہوئی ہے جس کا ادنیٰ احساس کرتے ہی دل دہلتاہے اور آنکھوں سے خون کے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں ۔ہمیں اپنے اسلاف کی روشن تاریخ سے نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ جدوجہد آزادی اور تعمیر ملک ملت کے حوالے سے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو جان سکیں۔نعمت آزادی کی قدر کریں اور اس عظیم امانت کی حفاظ کریں ۔ان خیالات کا اظہار امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ’جد وجہد آزادی میں اسلاف کی قربا نیاں ملک وملت کی تعمیر و ترقی کے لیے رول ماڈل ‘ کے عنوان پر اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا میں منعقدقو می سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا امام مہدی سلفی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور سب سے بڑی دولت بھی، اس کے بغیر ایک انسان کچھ بھی نہیں ہے۔ بھارت ایک خوبصورت دلہن ہے او ر تمہاری کھینچا تانی میں اگر اس کی انتہائی خوبصورت آنکھیں متاثر ہوتی ہیں تو یہ دلہن بھینگی اور کانی ہوجا ئے گی۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ہندومسلم،سکھ عیسائی اتحاد اور بھائی بھائی کے نعرے کو عملی جامہ پہنایا اور نفرت کے ہر فتنے کو مٹایاتب آزادی کی صبح نصیب ہوئی۔
مولانا مہدی نے کہا کہ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ ہمارے اسلاف نے کن لوگوں کے خلاف جنگ لڑی اور آزادی حاصل کی تب تک ہم ٹکراﺅ اور تقسیم کی ذلت سے نہیں بچ پائیں گے ۔بنگال سے کون لوگ اٹھے تھے، فرائضی تحریک کہاں سے اٹھی اور کہاں پہنچی، یہ سب ہمارے نوجوانوں اور بچے بچے کو جاننے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر تحریک شہیدین کو یاد رکھنا ہوگا۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون نے جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والوں کو یاد کرنا ہمارے بیدار ہونے کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ علماءاہلحدیث آزادی کی تحریک چلانے میں پیش پیش تھے۔ علماءنے ہی عوام کے اندر جد وجہد آزادی کی شمع جلائی۔ انہوں نے کہا کہ حوصلہ شکنی کے لیے انگریزوں نے علماءکی تصانیف اور ان کی لائبریوں کو نذر آتش کردیا۔ آپ نے امیر محترم کی بہترین قیادت میں جمعیت کی شاندار خدمات کا بھی ذکر کیا۔
ازیں قبل ناظم اجلاس ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے تمام مقررین و شرکاءکا بصمیم قلب مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کے ذمہ داران کی طرف سے استقبال کیا اور جدوجہد آزادی کے مختلف مراحل کا تذکرہ کرتے ہوئے مجاہدین آزادی کی جدوجہد کا اجمالی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ عظیم الشان سمپوزیم کا تھیم یہی ہے کہ ملک وملت کی تعمیر وترقی کیلئے اسلاف کی قربانیوں کو رول ماڈل مانتے ہوئے اپنے حصہ کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
سمپوزیم میںمولانا صلاح الدین مقبول مدنی ،سرپرست مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے جدوجہد آزادی میں علماءاہل حدیث کا کردار کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اسلاف کی قربانیوں کا تفصیلی تذکرہ کیااور بطور خاص یہ شعر پڑھا کہ’خون دل دے کے سنوارا ہے رخ برگ گلاب، ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔
پدم شری پروفیسر اختر الواسع ،پروفیسر ایمیریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے کہا کہ علمائے صادق پور کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جن مدرسوں کو دہشت گردی کا اڈہ کہا جارہا ہے یہ وہی مدر سے ہیں جنہوں نے انگریزوں سے ملک کو آزادی دلانے کے لیے جد و جہد کی۔ انہوںنے کہا کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ علماءکا کارنامہ ہے کہ انہوںنے ملک کو آزاد کرانے کے ساتھ مذہب کا تحفظ بھی کیا۔
مولانا عبدالاحد مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الداسات الاسلامیہ نے ”تحریک شہیدین : جد و جہد آزادی کا نقش اولین“ کے موضوع پرمغز خطاب کیا اورتحریک شہیدین پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
فیروز احمد ایڈوکیٹ صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نے اپنے تاثرات میں سمپوزیم کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم کی ستائش کی اور کہا کہ آزادی کو برقرار رکھنے کے طریقہ کار پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس ملک کو آزادی دلانے اور تعلیم کے فروغ میں اہم رول رہا ہے۔ آزادی قابل قدر نعمت ہے جس کا تحفظ ضروری ہے۔
مولانا عطاءالرحمن قاسمی صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ، دہلی نے سمپوزیم کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ 1857 یا اس سے پہلے کی تحریک آزادی پر غور کیا جائے تو ایک بات جو نکھر کر سامنے آتی ہے یہ تحریک کسی خاص طبقے یا مذہب کی تحریک نہیں تھی بلکہ یہ ہندو مسلم اتحاد کی تحریک تھی۔ اور سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ دیش کو ہرصورت میں انگریزوں سے آزاد کرائیں گے۔
مولانا رضوان رفیقی اسسٹنٹ سکریٹری جماعت اسلامی ہند نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ ہما ر ے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہم لوگ جنگ آزادی کے اصل ہیروﺅں کو یاد کررہے ہیں۔ ضر و رت اس بات کی ہے کہ اسلاف کے ان کارناموں کو نئی نسل کے سامنے سادہ اسلوب میں پیش کیا جائے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے شعبہ اردو کے پروفیسر ندیم احمد نے سمپوزیم کے انعقاد پرامیر جمعیت مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کو مبارکباد پیش کی اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اپنے موضوع’نعمت آزادی اور اس کے تقاضے‘پر پرمغز گفتگو کی اور آزادی کا صحیح مفہوم واضح کیا ۔
مولانا اظہر مدنی ڈائریکٹر اقراءانٹر نیشنل اسکول ، جیت پور، نئی دہلی نے جد و جہد آزادی میں علماءصادق پور کی قربانیاں‘کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کئی تاریخی کتابوں کے حوالے سے کہا کہ آزادی کی تحریک میں علماءاہل حدیث پیش پیش رہے ہیں۔ مولانا عبدالغنی مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ نے ’تحریک آزادی میں مدا رس اسلامیہ کا کردار‘ کے موضوع پر اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کے انگریز و ں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے کے بعد لوگوں کے اندر ملک کو آزادی دلانے کے تئیں ایک ولولہ انگیز پیغام پہنچا ۔
ایڈوکیٹ رئیس احمد ممبر ایڈوکیٹ پینل حکومت دہلی نے ”انسانی زندگی میں امن وقانون کی پاسداری“ کے عنوان پر اظہا ر خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان بہت پر امن اور امن پسند ہیں۔ ہندوستان کے علماءنے ملک میں حالات کو خراب ہونے نہیں دیا۔ ڈاکٹر جنید حارث استاذ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی نے” قومی یکجہتی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ وقت کی بڑی ضرورت“ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے جمعیت اہلحدیث ہند کو کتاب وسنت کی امین قراردیا اور کہا کہ جمعیت و جماعت سے وابستہ افراد فرقہ واریت کے خلاف ہمیشہ سینہ سپررہے۔
پروفیسر مظہر علی سلفی استاذ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نے’ آزادی کا تحفظ- خوشحالی اور پر امن بقائے باہمی کا ضامن‘ کے موضوع پر اظہارخیا ل کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے حقوق سے آگاہ ہو اور دوسرے کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔حافظ شکیل احمد میرٹھی،سابق امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی نے تاریخی واقعات کی روشنی میں جنگ آزاد میں اہل حدیث علماءکے نمایاں کردار کا تذکرہ کیااور آزادی کی امانت کا پاس ولحاظ رکھنے کی تاکید کی۔
حافظ محمد یوسف ،نائب ناظم مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے متحدہوکر یہ فیصلہ کیا کہ اب ہمیں یہیں مرنا اور جینا ہے ۔مولانا محمد مستقیم سلفی سابق پرنسپل المعہد العالی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں پر ملک سے بے وفائی کے الزام کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس سمپوزیم کا آغاز حافظ ارمغان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔اس میں دہلی واطراف کے ائمہ ومتو لیان،اساتذہ و طلبا مدارس وعصری جامعات ،صحافی حضرات کے علاوہ عوام وخواص نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
No Comments: