
نئی دہلی، 21 ستمبر (میرا وطن نیوز)
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار عمر خالد اور شرجیل امام کی ضما نت عرضیوں پر سماعت ملتوی کردی ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 30 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔دہلی پولیس نے پیر کو سماعت کے دوران دلائل پیش کرنے کے لیے وقت دینے کی درخواست کی۔ اس کے بعد عدالت نے 30 ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔ ہائی کورٹ نے 31 جولائی کو عمر خالد کی ضمانت عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔
اس سے قبل کڑکڑڈوما کورٹ نے 4 جولائی کو عمر خالد اور شرجیل امام کی نئی ضمانت عرضیاں خارج کردی تھیں۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی نے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم کی پابندی کر نے کے لیے مجبور ہیں۔ کڑکڑڈوما کورٹ نے کہا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں ٹرائل کورٹ میں بھی قابل سماعت نہیں ہیں۔
سماعت کے دوران عمر خالد کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل تریدیپ پیس نے کہا تھا کہ سپریم کو رٹ نے اندرابی معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں مسترد کیے جانے پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا وہ حکم، جس میں گواہوں کے بیانات درج نہ ہونے کی صورت میں ایک سال بعد ضمانت عرضی دائر کرنے کی بات کہی گئی تھی، اب قابل اطلاق نہیں ہے۔
واضح رہے کہ 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں مسترد کردی تھیں ۔ اسی روز سپریم کورٹ نے جن پانچ ملزمان کو ضمانت دی تھی، ان میں گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاءالرحمٰن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان شامل تھے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے 22 مئی کو ملزمان خالد سیفی اور تسلیم احمد کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دی تھی۔ اس معاملے کے چار ملزمان صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگنا کلیتا اور نتاشا نروال کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔
اس معاملے میں 18 ملزمان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت درج مقدمے میں چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے۔ ملزمان میں صفورا زرگر، طاہر حسین، عمر خالد، خالد سیفی، عشرت جہاں، میران حیدر، گل فشاں، شفاءالرحمٰن، آصف اقبال تنہا، شاداب احمد، تسلیم احمد، سلیم ملک، محمد سلیم خان، اطہر خان، شرجیل امام، فیضان خان، نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا شامل ہیں۔
No Comments: