
فتح پور سیکری (آگرہ)18 اگست: عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ کے سابق سجادہ نشین حضرت پیرزادہ عیاض الدین چشتی رئیس میاں ؒکا چہلم شریف عقیدت، احترام اور روحانی ماحول میں منایا گیا۔ اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے آئے مذہبی رہنماؤں، خانقاہوں کے سجادگان، سیاسی و سماجی کارکنوں، دانشوروں اور بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کرکے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس دوران فاتحہ شریف، فاتحہ خوانی، ایصال ثواب اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب کی مذہبی رسومات درگاہ خواجہ غریب نواز، اجمیر شریف کے جانشین کے سجادہ نشین دیوان سید نصیر الدین چشتی کی سرپرستی میں ادا کی گئیں۔ چہلم شریف میں شریک مذہبی رہنماؤں اور معزز شخصیات نے رئیس میاں چشتیؒ کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوفی روایات کے ذریعے محبت، امن، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام عام کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے موجودہ سجادہ نشین و متولی اور مرحوم رئیس میاں چشتیؒ کے صاحبزادے پیرزادہ ارشد فریدی چشتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ محبت، امن، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام دیا ہے۔ ان کے والد محترم حضرت پیرزادہ رئیس میاں چشتیؒ نے بھی اپنی پوری زندگی انہی اقدار کو آگے بڑھانے کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے کہا کہ صوفی روایات صرف روحانی تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ معاشرے میں محبت، ہم آہنگی، بقائے باہمی اور انسانیت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ رئیس میاں چشتیؒ کی جانب سے آگے بڑھائی گئی صوفی روایات، بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور انسانیت کی خدمت کی مہم آئندہ بھی پوری وابستگی کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
تقریب میں رئیس میاں چشتیؒ کے بین الاقوامی سطح پر فعال کردار کا بھی ذکر کیا گیا۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور تقریب میں موجود افراد کے مطابق، انہوں نے مختلف مواقع پر 20 سے زائد ممالک کے سربراہان، صدور اور غیر ملکی نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے سامنے ہندوستان کی کثرت پر مبنی ثقافت، گنگا جمنی تہذیب اور باہمی بھائی چارے کی روایت کو نمایاں کیا۔ بتایا گیا کہ غیر ملکی مہمانوں کے فتح پور سیکری پہنچنے پر گفتگو کے دوران رئیس میاں چشتیؒ انہیں فتح پور سیکری کے تاریخی و ثقافتی ورثے کے ساتھ یہاں کی صدیوں پرانی صوفی روایات سے بھی روشناس کراتے تھے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہندوستان کی شناخت اس کے تنوع اور مختلف مذاہب و برادریوں کے درمیان بقائے باہمی کی روایت سے ہے۔
پنڈت دین دیال اپادھیائے کے پڑپوتے اور اتراکھنڈ حکومت کے قانونی مشیر چندر شیکھر اپادھیائے نے بتایا کہ رئیس میاں چشتیؒ غیر ملکی نمائندوں کے سامنے ہندوستان میں مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کا پیغام پیش کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ صوفی فکر کا بنیادی پیغام محبت، انسانیت اور امن ہے اور یہی پیغام دنیا میں باہمی بداعتمادی اور ٹکراؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ رئیس میاں چشتیؒ کی زندگی میں عالمی امن اور انسانیت کی بہتری کا پیغام نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔ وہ فتح پور سیکری میں واقع حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ کو ایسی روحانی میراث کا مرکز سمجھتے تھے جہاں مختلف مذاہب اور ممالک سے لوگ عقیدت و یقین کے ساتھ پہنچتے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ فتح پور سیکری کی یہ روایت ہندوستان کے اس ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتی ہے جس میں مذہب اور برادری کی حدود سے بالاتر ہوکر انسانیت اور ہم آہنگی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ غیر ملکی مہمانوں کے علاوہ ملک کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ ان کے روابط بھی اسی وسیع پیغام کا حصہ تھے۔
قابل ذکر ہے کہ رئیس میاں چشتیؒ نے دنیا بھر سے درگاہ پر آنے والے سربراہانِ مملکت اور اہم رہنماؤں سے ملاقات کی اور انہیں ہندوستان کے بھائی چارے، باہمی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب سے روشناس کرایا۔ انہوں نے تمام غیر ملکی مہمانوں کے سامنے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان میں مسلمان اور دیگر اقلیتی برادریاں بہتر ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی مہمانوں کو یہ پیغام دیا کہ ہندوستان امن اور ہم آہنگی کی سرزمین ہے، جہاں مختلف مذاہب اور برادریوں کے لوگ باہمی محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ درگاہ اور فتح پور سیکری کے تاریخی و ثقافتی ورثے سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں اور اقلیتوں کی صورتِ حال سے بھی انہیں آگاہ کیا۔ رئیس میاں چشتیؒ نے عالمی امن کا پیغام دیا اور دنیا میں امن و سکون کے لیے ہمیشہ دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فتح پور سیکری اس روایت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال ہے، جہاں آج بھی ملک و بیرون ملک سے لوگ آتے ہیں اور باہمی بھائی چارے کی مثال قائم کرتے ہیں۔ غیر ملکی مہمانوں کے علاوہ انہوں نے ہندوستان کے چار سابق وزرائے اعظم سے بھی اسی تاریخی مقام پر ملاقات کی اور امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کا پیغام پہنچایا۔
اپنے صدارتی خطاب میں اجمیر شریف درگاہ کے جانشین کے سجادہ نشین دیوان سید نصیر الدین چشتی نے کہا کہ رئیس میاں چشتیؒ نے اپنی زندگی درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی خدمت، صوفیانہ روایات کے تحفظ و فروغ اور تعلیمات تصوف کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے کہا کہ رئیس میاں ؒ نے محبت، بھائی چارے، امن اور انسانیت کے پیغام کو آگے بڑھانے کے ساتھ نئی نسل کو صوفی روایات کی اخلاقی اور انسانی اقدار سے جوڑنے کا کام بھی کیا۔ ان کی دینی، روحانی اور صوفیانہ خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
چہلم شریف کے موقع پر مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کی جانب سے بھیجے گئے تعزیتی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ ان میں سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، مرکزی وزیر و راشٹریہ لوک دل کے صدر جینت چودھری، رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی، جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری، جمعیۃ علماء ہند کے صدر محمود مدنی سمیت متعدد اہم شخصیات کے پیغامات شامل تھے۔
تعزیتی پیغامات میں رئیس میاں چشتیؒ کی دینی و روحانی خدمات، صوفی روایات کے فروغ اور امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ان کی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب میں خانقاہ فریدیہ، حیدرآباد کے سجادہ نشین محمد شجاع الدین فریدی، درگاہ شاہ راجو، تلنگانہ کے سجادہ نشین، آستانہئ عالیہ قادریہ کے سجادہ نشین سید سنوان شاہ قادری، درگاہ سیدنا سرکار کے سجادہ نشین سید مہتشم علی ابوالعلائی، سید اشاعت علی ابوالعلائی، سید کیف علی ابوالعلائی، خانقاہ رمضانیہ کے سجادہ نشین قاسم علی شاہ، خانقاہ شفیقیہ کے جانشین پیرزادہ سلمان شیخ قادری سمیت بڑی تعداد میں علماء، مشائخ اور عقیدت مند موجود تھے۔
آصف زماں رضوی نے رئیس میاں چشتیؒ کی شان میں عقیدت و محبت سے سرشار نظم پیش کی۔ نظم کے دوران پورا ماحول روحانی جذبات سے معمور ہوگیا اور حاضرین نے جذباتی کیفیت میں مرحوم کے لیے دعائیں کیں۔
چہلم شریف میں سابق مرکزی وزیر و سماجوادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن رام جی لال سمن، حضرت مولانا یعقوب قاسمی نقشبندی، دوردرشن کی اینکر سعدیہ علیم، سینئر صحافی عادل علی خان، زی سلام کے ڈائریکٹر قاری فضل الرحمن، مولانا اشرف کاشفی، اے سی پی عمران احمد، چودھری چندرویر سنگھ، ریتیش شکلا، انکت تیواری، سابق بی ڈی او رام اوتار سنگھ، پرمود چودھری، سنجے گوئل اور اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید احمد خان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
چہلم شریف کی مجلس میں شریک عقیدت مندوں نے حضرت پیرزادہ رئیس میاں چشتیؒ کے لیے مغفرت اور بلندیئ درجات کی دعا کی۔ اس کے بعد اجتماعی دعا اور لنگر کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب میں یہ پیغام نمایاں طور پر سامنے آیا کہ فتح پور سیکری کی صوفی میراث محض ایک مذہبی مقام کی شناخت نہیں بلکہ صدیوں سے جاری محبت، بقائے باہمی، ثقافتی تنوع اور انسانیت کی روایت کی علامت ہے۔ رئیس میاں چشتیؒ نے اسی میراث کو آگے بڑھاتے ہوئے صوفی پیغام کو ملک اور دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کے صاحبزادے پیرزادہ ارشد فریدی چشتی نے اس روایت اور مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
تقریب میں شریک متعدد ممتاز شخصیات نے رئیس میاں چشتیؒ کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں ”سدبھاؤنا ایوارڈ“ سے نوازا جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی، صوفی روایات اور عالمی امن کے پیغام کو آگے بڑھانے والی ایسی شخصیات کی خدمات کو سرکاری سطح پر بھی اعزاز سے نوازا جانا چاہیے۔
No Comments: