Tasawwuf Advertisement 2024

قومی خبریں

خواتین

اپنا قیمتی ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ بوتھ ضرور جائیں۔مولانا سجاد نعمانی

معاشرے کو تقسیم کرنے والی جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو اپنے ووٹ کی طاقت سے روکیں

لکھنؤ: مفسر قرآن اور معروف عالم دین مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے کہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کی شروعات 19 اپریل سے شروع ہو رہی ہے۔ یہ الیکشن عام انتخابات کی طرح نہیں بلکہ یہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے میں تمام ہم وطنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کا ہر ووٹ بہت قیمتی ہے اور اس کا اثر بہت دور تک پڑےگا۔ اس لیے آپ سب اپنا قیمتی ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ بوتھ تک ضرور جائیں۔انہوں نے کہا کہ محلے کے ذمہ دار لوگ چھوٹے چھوٹے گروپ بنالیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر 18 سال سے زیادہ عمر کا شخص ووٹ ڈالنے جائیں۔ اس کے لیے ہر گھر میں جا کر ووٹنگ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں، یہ ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔مولانا نعمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ایک سیٹ پر کئی امیدوار ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جنہیں جیت یا ہار سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ صرف ووٹ کاٹنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اپنے قیمتی ووٹوں کو تقسیم نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو چند پیسے لے کر ووٹ کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ اس لیے احتیاط کریں کہ آپ کا ووٹ تقسیم نہ ہو۔
مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ نفرت پھیلانے اور معاشرے کو تقسیم کرنے والی جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو اپنے ووٹ کی طاقت سے روکیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کون سا امیدوار جیت رہا ہے، چاہے آپ اسے ذاتی طور پر پسند نہ کریں۔ ہمیں اور آپ کو اپنی پسند اور ناپسند سے اوپر اٹھ کر دیکھنا چاہیے کہ ہمارے ملک کے لیے بہتر کیا ہے۔ ذاتی فائدے سے زیادہ ملک کی فلاح و بہبود ضروری ہے۔مولانا نے زور دے کر کہا کہ ہر بھارتی شہری کو صد فیصد حق رائے دہی استعمال کریں تاکہ ملک فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھ میں نہ جانے پائے۔ آپ کا ووٹ ملک کی ترقی، محبت، ہم آہنگی اور معاشرے میں اعتماد کے لیے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ اپیل وطن عزیز کی محبت میں کر رہا ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ سب ملک میں امن اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا اہم کردار ضرور ادا کریں گے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *