Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ستیہ نکیتن عمارت انہدام کے مقام کا جماعت اسلامی ہند نے کیا دورہ

معاوضہ اور طلبہ کی رہائش گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا کیا مطالبہ

ہم نے جو کچھ دیکھا اور جو معلومات حاصل کیں وہ انتہائی تشویش ناک ہیں:سیلم انجینئر

نئی دہلی،8ستمبر (میرا وطن نیوز )
جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے جائے حادثہ مقام کا دورہ کیا اور وہاں موجود لوگوں سے ملاقاتیں کرکے زمینی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وفد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر، قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی، آئی کریم اللہ، عتیق الرحمن اور سلمان احمد شامل تھے۔
اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ہم نے اس دورے کے دوران جو کچھ دیکھا اور جو معلومات حاصل کیں وہ انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اس سانحے کو محض ایک عمارت کے منہدم ہونے کا واقعہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس حادثے کے ذمہ داران کی جواب دہی طے کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حادثے میں جن لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ان کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جانا چاہیے، اس حادثے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے اور جہاں بھی غفلت، ضابطوں کی خلاف ورزی یا ناکامی ثابت ہو وہاں جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ سانحہ دہلی یونیورسٹی اور اس کے آس پاس رہنے والے طلبہ کے لیے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب کالجوں میں ہاسٹل کی سہولتیں انتہائی ناکافی ہوں تو دہلی میں با ہر سے آنے والے ہزاروں طلبہ پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں اور کرائے کے مکانات پر انحصار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی رہائش گاہوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے اس طرح کے سنگین حالات پیدا کر دئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاراور متعلقہ حکام کو فوری طور پر طلبہ کے لیے مناسب اور سستے ہاسٹل کی سہولتیں فرا ہم کرنے کے انتظامات کرنے چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ستیہ نکیتن اور اس جیسے دوسرے ہاسٹلوں اور پی جی عمارتوں کی جانچ، آڈٹ اور حفاظتی جائزہ بلا تاخیر کرایا جانا چاہیے۔ رہائش کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے نام پر حفاظتی معیار، ایمرجینسی اکزٹ، عمارتوں کی منظوری اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس سانحے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور دیگر افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے جائز خدشات اور مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔طلبہ کے مطالبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کو سنجیدگی سے سنا اور حل کیا جانا چاہیے۔ ہم سرکاراور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کریں، ان کے خدشات کو دور کریں اور ٹھوس اقدامات کریں۔
پروفیسر انجینئر سلیم نے کہا کہ صرف ضابطہ کی ناکامیوں، بنیادی سہولتوں کی کمی یا تجارتی مفادات کی وجہ سے طلبہ کی زندگیوں کو دا ¶ پر نہیں لگایا جاسکتا۔ اس سانحے کی جواب دہی کے ساتھ ساتھ م ¶ثر اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المناک حادثے مزید نوجوانوں کی جان نہ لیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *