Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

قرون وسطیٰ میں مسلم حکمرانوں کے دور میں ہندوستان دنیا کا مضبوط ترین معاشی طاقت تھا: ماہرین`

نئی دہلی،25اگست (میرا وطن نیوز )
قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں اقتصادی ترقی اور پالیسیاں‘کے موضوع پر جماعت اسلامی ہند اور آئی ایس آر ڈی کے زیر اہتمام منعقدہ ویبینار میں مقررین نے ہندوستان کی قرونِ وسطیٰ کی معاشی تاریخ، زراعت، صنعت، تجارت، آب پاشی اور محصولات کے نظام پر روشنی ڈالی۔ مقررین کے مطابق زرا عت، تجارت اور صنعت اس دور کی معیشت کے بنیادی ستون تھے اور انہی شعبوں کی مضبوطی نے ہندو ستان کو ایک بڑی عالمی معاشی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر پرویز نذیر نے کہا کہ ہندوستان کو ’سونے کی چڑیا‘ کہنے کی بنیادی وجہ اس کی مضبوط معیشت تھی۔ ان کے مطابق قرونِ وسطیٰ میں ’زراعت، تجارت اور صنعت‘معیشت کے تین بنیادی ستون تھے۔ زراعت نہ صرف ریاست کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھی بلکہ تجارت اور صنعت کو بھی خام مال فراہم کرتی تھی۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ قرونِ وسطیٰ کی معیشت میں ’سب سے امپورٹنٹ چیز زراعت ہے‘۔انہوں نے موجودہ دور کے لیے تاریخ سے سبق لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے اختلا فا ت کو آج کے مسلمانوں سے انتقام کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے مسلما نوں پر زور دیا کہ وہ معاشی طور پر مضبو ط ہوں، دولت پیدا کریں اور اسے معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد اور ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔
آئی ایس آر ڈی کے سکریٹری اور ویبینار کے کنوینر آصف اقبال نے کہا کہ آٹھویں سے اٹھارہویں صدی تک ہندوستان کی معاشی تاریخ کا مطالعہ زرعی نظام، تجارتی نیٹ ورکس، دستکاری اور مالیاتی پالیسیوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے دہلی سلطنت اور مغلیہ دور میں محصولات کے نظام، شاہی سرپرستی اور تجارت کی توسیع کو معاشی ترقی کے اہم عوامل قرار دیا۔
ویبینار میں طلبہ، تاریخ و معاشیات کے اسکالرز اور دیگر شرکا نے شرکت کی۔ مقررین نے اس امر پر زو ر دیا کہ ہندوستان کی معاشی تاریخ کا مطالعہ صرف ماضی کو سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ موجودہ دور میں معاشی خود کفالت، سماجی خوش حالی اور ملک کی مجموعی ترقی کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *