Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

عدالت کے فیصلے کا احترام کریں لیکن مشترکہ تعلیم اور سماجی اتحاد کی فکر بھی ضروری ہے: جمال صدیقی

نئی دہلی، 26 اگست(میرا وطن نیوز)
پریاگ راج کے ایک پرائیویٹ اسکول میں مقررہ یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست کو مسترد کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر، بی جے پی اقلیتی مورچہ کے سابق قومی صدر جمال صدیقی نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہمیں اس کے سماجی اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اسکول یونیفارم، نظم و ضبط، اور ادارہ جاتی شناخت کی اپنی اہمیت ہے، لیکن اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ کسی بھی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے خاندان مرکزی دھارے کی تعلیم سے محروم محسوس نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ حجاب کے بارے میں مذہبی اور سماجی نقطہ نظر میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی ایک سماجی حقیقت ہے کہ مسلم کمیونٹی کا ایک بڑا طبقہ اسے اپنے طرز زندگی اور ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھتا ہے ۔ اس لیے اس مسئلے کو محض مذہبی علامت کے طور پر سمجھنے کی بجائے تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔جمال صدیقی نے کہا کہ اگر مسلم خاندان کسی فیصلے یا اس کے سماجی اثرات کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو عام اسکولوں کے بجائے الگ تعلیمی اداروں میں بھیجنا شروع کردیں تو اس سے مشترکہ تعلیم اور سماجی ہم آہنگی کو کمزور کرنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کی طاقت ہمیشہ تنوع میں اس کا اتحاد اور مشترکہ سماجی زندگی رہی ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *