Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اے پی سی آر کا طویل حراست اور بغیر ٹرائل قید کے معاملے پر مباحثہ

قانونی ماہرین نے انصاف اور آئینی حقوق پر اٹھائے گئے سوالات

نئی دہلی،25اگست (میرا وطن نیوز)
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے منگل کویس کلب آف انڈیامیں ’Jailed Without Trial: The Politics of Imprisonment‘ کے عنوان سے عوامی بحث و مباحثے کا انعقاد کیا۔ مباحثے میں سینئر وکلاءاور قانونی برادری سے وابستہ ماہرین نے طویل عرصے تک بغیر مقدمے کے قید، سخت انسدادِ دہشت گردی قوانین کے استعمال، ضمانت کے قا نونی اصول، آئینی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
مباحثے کے مرکز میں اسٹوڈنٹس لیڈرز عمر خالد اور شرجیل امام کی طویل زیرِ حراست مدت بھی رہی، جو فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے)کے تحت گرفتار کیے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے دونوں پر فسادات کی مبینہ سازش میں اہم کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ مقررین نے اس امر پر توجہ دلائی کہ جب کسی شخص کو طویل عرصے تک مقدمے کے حتمی فیصلے کے بغیر قید رکھا جاتا ہے تو اس کے بنیادی حقوق، شخصی آزادی اور انصاف تک رسائی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ مقدمہ شروع ہونے سے قبل طویل قید محض قانونی کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ زیرِ سما عت ملزم کی زندگی، آزادی، سماجی حیثیت اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس تناظر میں آئین کی جانب سے فراہم کردہ شخصی آزادی، بے گناہی کے مفروضے، منصفانہ ٹرائل اور بروقت انصا ف کے اصولوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
مباحثے میں معروف وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ معاشرے میں تکلیف اور ناانصافی کو برداشت کرنے کی عادت بڑھتی جا رہی ہے اور لوگ اس کے خلاف آواز اٹھانا بھی کم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق معاملہ صرف ان دو افراد تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام اور اس کے ڈھانچے سے متعلق ایک بڑا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی فرد کی آزادی کو اس طرح مجروح کیا جانا جمہوری معاشرے کے لیے باعث تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین شہریوں کو اپنی شکایت اور اختلاف کا اظہار کرنے کا حق دیتا ہے، تاہم آج اختلافِ رائے کے اظہار پر ہونے والا ردعمل اس بنیادی حق کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے عدلیہ اور وکلا برادری کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی اسی وقت مضبوط رہتی ہے جب عدالتیں اور وکلا شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں اپنا مو ¿ثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمان کو ایک ایسے نظام کا متاثرہ قرار دیا جس میں قانون کی حکمرانی کے بجائے طاقت کے استعمال کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عدالتیں مو ¿ثر حفاظتی کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں تو اس کے نتائج ایک ایسے نظام کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں جہاں انصاف کے بنیادی اصول کمزور پڑ جائیں گے۔
سپریم کورٹ کی معروف وکیل ایڈوکیٹ شاہ رخ عالم نے پولیس کے کردار اور طویل تاخیر سے چلنے والے مقدمات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت پولیس کا بنیادی کام تحقیقات کرنا، شواہد اکٹھے کرنا اور انہیں عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے، جبکہ کسی شخص کو مجرم قرار دینے کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقدمے کی کارروائی میں غیر معمولی تاخیر ہو تو ضمانت کے اصول پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض مقدمات میں سیاسی بیانیوں اور مخصوص اصطلاحات کے استعمال سے اصل قانونی سوالات پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے مقدمے کی طویل مدت اور قانونی کارروائی میں تاخیر کو بنیادی تشویش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو گرفتار ہوئے چھ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، تاہم مقدمے کی کارروائی ابھی تک اس مرحلے تک نہیں پہنچی جہاں الزامات کا عدالتی طور پر حتمی تعین ہو سکے۔ انہوں نے مقدمے کے پس منظر اور استغاثہ کے مو ¿قف پر بھی سنگین سوالات اٹھا تے ہوئے کہا کہ اگر کسی مقدمے میں بدنیتی یا قانونی عمل کے غلط استعمال کے شواہد موجود ہوں تو عدالتو ں کو اس پہلو کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ نظام پاشا نے بالونت سنگھ کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اس معاملے میں اس بات پر غور کیا تھا کہ محض نعرے لگانا بذاتِ خود دہشت گردانہ سرگر می قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے اصول کو برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر آزادی اور مساوی قانونی تحفظ کے اصول کمزور پڑ جا ئیں تو اس کا بوجھ بعض شہریوں کو اپنی آزادی کے کئی برس گنوا کر اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
مباحثے کی نظامت ایڈووکیٹ احمد ابراہیم نے کی، جبکہ پینل میں ایڈووکیٹ سلمان خورشید، ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے، ایڈووکیٹ شاہ رخ عالم، ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن، ایڈووکیٹ نظام پاشا اور ایڈووکیٹ ور یشہ فراست شامل تھے۔مقررین نے مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا کہ فوجداری انصاف کے نظام میں بروقت ٹرائل، ضمانت کے اصول، شخصی آزادی، بے گناہی کے مفروضے اور آئینی تحفظات کو مرکز ی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کو جرم ثابت ہونے سے قبل برسوں تک قید رکھنا ایسے نتائج پیدا کر سکتا ہے جن کی تلافی بعد میں بری ہونے کی صورت میں بھی مکمل طور پر ممکن نہیں ہوتی۔
اس دوران مباحثے کا انعقاد کرنے والی تنظیم اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ طو یل زیرِ سماعت حراست کا مسئلہ مسلسل عوامی، قانونی اور عدالتی توجہ کا متقاضی ہے، بالخصوص ان معاملا ت میں جہاں ملزمان کئی برس سے قید ہوں جبکہ مقدمے کی کارروائی ابھی تک اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچی ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی ضمانتوں، منصفانہ ٹرائل اور بروقت انصاف کے اصولوں کو فوجداری نظامِ انصاف کے مرکز میں برقرار رکھنا ضروری ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *