
نئی دہلی،20ستمبر (میرا وطن نیوز )
نوجوان سماجی کارکن اور سیاسی رہنما محمد فیصل مہربان نے ملک کے حالات بالخصوص مسلمانوں کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قوم اور ملک کی ترقی کے لیے ایک منفرد تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہر ملک کا مسلمان روزانہ صرف ایک روپیہ جمع کرے تو اس معمولی رقم سے ایک بڑا اجتما عی فنڈ قائم کیا جاسکتا ہے، جس کے ذریعے تعلیمی، طبی اور روزگار کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر کام کیا جا سکتا ہے۔
دہرادون انٹرنیشنل کالج اور گریٹر نوئیڈا یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے محمد فیصل مہربان کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی میں نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہم ہے اور اگر معاشرے کے افراد چھوٹی چھوٹی رقوم باقاعدگی سے جمع کریں تواس سے مسلمانوں کے درمیان ایک بڑی اجتماعی طاقت وجود میں آسکتی ہے۔ انہوں نے اپنی تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 25 کروڑ ہے۔ اس طرح اگر ہر مسلمان روزانہ صرف ایک روپیہ نکالے تو ایک دن میں 25 کروڑ روپے جمع ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم ایک ماہ میں 75 کروڑ روپے اور ایک سال میں تقریباً 900 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بڑی رقم کو منظم اور شفاف انداز میں استعمال کیا جائے تو ہر سال بڑے تعلیمی اور طبی اداروں کے قیام سمیت کئی فلاحی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
فیصل مہربان کے مطابق اس اجتماعی فنڈ کے ذریعے میڈیکل کالج، یونیورسٹیاں، اسکول اور کالج قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ہنرمند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی سمت میں بھی عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم اور ہنر کو فروغ دے کر نوجوانوں کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
فنڈ کے انتظام اوراستعمال کے حوالے سے فیصل مہربان نے کہا کہ اس سلسلے میں قوم کے بزرگ اور ایماندار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جاسکتی ہے جو بینک میں کھاتہ کھلوائے اور وہیں رقم جمع کرے۔ اس کے ساتھ ہی مناسب شہر اور مقام پر سوسائٹی کے نام سے جگہ خرید کر اسپتال، یونیورسٹی،اسکول، کالج کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر گھر میں رہنے والا ہر ممبر روزانہ ایک روپیہ نکالے اور پورے مہینے میں جمع ہوئی رقم سوسائٹی کے پاس جمع کروائے اوراس کی رسید حاصل کرے۔ اس طرح ایک ماہ بعد مجوزہ سوسائٹی مجموعی رقم کو بینک میں جمع کرائے اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تجویز کا بنیادی مقصد کسی فرد یا ادارے پر مالی بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ مسلمانوں کے درمیان اجتماعی تعاون کے ذریعے ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں غریب سے غریب شخص بھی حصہ لے سکے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ ایک روپیہ نکالنا بظاہر بہت معمولی رقم ہے لیکن اگر لاکھوں اور کروڑوں افراد مستقل طور پر اس میں حصہ لیں تو اجتماعی طور پر ایک بڑا فنڈ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ یہی معمولی رقم ایک بڑے قومی و سماجی منصوبے کی بنیاد بن سکتی ہے۔اس فنڈ کو شفاف اور منظم طریقے سے استعمال کرکے کمیونٹی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں بھی کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔
محمد فیصل مہربان نے کہا کہ اگر اس طرح کے منصوبوں کو سنجیدگی، دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو معاشرے میں تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے نوجوانوں کو اپنے ملک میں بہتر مواقع میسر آئیں گے اور انہیں روزگار یا بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے نوجوانوں میں صلاحیت، ہنر اور محنت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، جدید تربیت اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اجتماعی وسائل کو نوجوانوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے تو وہ ملک کی معیشت اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فیصل مہربان نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ قوم کی ترقی کے لیے اجتماعی سوچ کو فروغ دیا جا ئے اور چھوٹی چھوٹی کوششوں کو بڑے مقصد سے جوڑا جائے۔ ان کے بقول ”روزانہ ایک روپیہ“ کی یہ تجویز اسی اجتماعی سوچ کی ایک مثال ہے، جس کے ذریعے تعلیم، صحت، روزگار اور خود کفالت کے میدان میں نئے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں اوراس کے ذریعہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ دیگر برادران وطن کے لیے بھی اہم خدمات انجام دی جاسکتی ہیں۔ فیصل مہربان کے مطابق اسپتال،تعلیمی ادارے اور روزگار کے مواقع ایسے شعبے ہیں جو ہر مذہب ومسلک کے افراد کی بنیادی ضرورت ہے اور ایسا کرکے ہم اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے برادران وطن کے درمیان اتحاد، بھائی چارہ، احترام اور خیرسگالی کو مضبوط کرسکتے ہیں۔
No Comments: