Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

سہارنپور کی قدیم مسجد کا انہدام، غیر قانونی وغیرہ دستوری

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی معاملے میں شدید مذمت

نئی دہلی/ 8 ستمبر(میرا وطن نیوز )
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع ایک صدی سے زائد قدیم مسجد کے انہدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے 16 جولائی کو مسجد کو سرکاری زمین پر غیر مجاز قبضہ قرار دیتے ہوئے بے دخلی کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف مسجد انتظامیہ نے ضلعی عدالت سے رجوع کیا۔ ضلعی عدالت نے 2ستمبر کو اپیل مسترد کرتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھا۔ تاہم 4ستمبر کو ضلعی انتظامیہ نے مقامی لوگوں کو یقین دلایا کہ مسجد کو صرف سیل کیا جائے گا، مگر اگلے ہی روز صبح چار بجے اسے منہدم کردیا گیا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ بے دخلی کا حکم کسی مذہبی عمارت کو فوری طور پر منہدم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر مسجد انتظامیہ کے پاس اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا قانونی حق باقی تھا تو اسے مو ¿ثر قانونی چارہ جوئی کا موقع دئے بغیر مسجد منہدم کرنا انصاف اور قدرتی اصولوں کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ سر کار اگر زمین کی ملکیت کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے بھی قانون، شفاف سماعت اور قدر تی انصاف کے اصو لوں کی پابندی کرنا ہوگی۔ سرکاری زمین ہونے کا دعویٰ ریاست کو قانون سے بالاتر ہوکر کارروائی کا اختیار نہیں دیتا۔ آئین کے آرٹیکل 14، 21 اور 25 بالترتیب مساوات، منصفانہ قانو نی طریقہ کار اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کے انہدام کے بعد ملبے کے نیچے تقریباً 20 فٹ گہرا ایک قدیم کنواں بھی سامنے آیا ہے، جس کا اے ایس آئی نے معائنہ کرکے نمونے حاصل کیے ہیں۔ اس پس منظر میں مسجد کی تاریخی حیثیت، سرکاری ریکارڈ اور زمین کی ملکیت کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے مطالبہ کیا کہ مسجد کے انہدام کے پورے عمل کی غیر جانب دارانہ قانونی تحقیقات کرائی جائیں۔ مسجد کو منہدم کرنے کی قانونی بنیاد اور متعلقہ احکامات عوام کے سامنے لائے جائیں۔ مسجد کی تاریخی حیثیت، زمین کے ریکارڈ اور وقف سے متعلق تمام دستاویزات کی مکمل جانچ کی جائے۔ مسجد انتظامیہ کو اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا مو ¿ثر موقع دیا جائے۔اور قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو نے کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات کا حل بلڈوزر نہیں، بلکہ قانون، عدالت اور آئین ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ریاست ہر شہری اور ہر مذہبی مقام کے ساتھ یکساں قانونی معیار اختیار کرے۔بورڈ کو امید ہے کہ مسجد انتظامیہ اس معاملے کو اعلیٰ عدالتوں میں لے جائے گی اور عدا لتیں اس کے قانونی و آئینی پہلوو ¿ں کا گہرائی سے جائزہ لیں گی۔ بورڈ مسجد انتظامیہ کو ہر ممکن قانونی و اخلاقی تعاون فراہم کرے گا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *