
لا پرواہی کے الزام میں جے ای معطل ،لوگوں کا نالے پر ریلنگ لگانے کا مطالبہ
نئی دہلی، 25 اگست (میرا وطن نیوز)
جنوب مشرقی ضلع کے جسولا گاو ¿ں میں ہفتے کے روز پتنگ لوٹنے کے دوران نالے میں بہہ جانے وا لے ایک 15 سالہ لڑکے کی لاش منگل کو چوتھے دن برآمد ہوئی۔ حادثے کے بعد سے دہلی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں نالے میں نابالغ کی مسلسل تلاش کر رہی تھیں۔ منگل کی سہ پہر تلاشی کی کارروائی کے دور ان لاش نالے کے بیرونی حصے کی طرف آئی جس کے بعد اسے برآمد کیا گیا۔ نابالغ کی شناخت متھن کے طور پر ہوئی ہے۔ لاش ملنے کے بعد جسولا گاو ¿ں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
اطلاعات کے مطابق سنیچر کی صبح تقریبا 11 بجے متھن پتنگ لوٹنے کے لیے نالے کے قریب گیا۔ اس دوران اس کی ٹانگ اچانک پھسل گئی اور وہ نالے میں گر گیا۔ نالے میں پانی کے شدید بہاو ¿ کی وجہ سے وہ بہہ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سریتا وہار پولیس اسٹیشن اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد نالے کے مختلف حصوں میں مسلسل تلاشی کی کارروائیاں جاری رہیں۔ پہلے دن سے ہی نوجوان کے رشتہ دار بھی موقع پر کھڑے تھے لیکن تین دن تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
تلاشی کی کارروائی منگل کو چوتھے دن بھی جاری رہی۔ اس دوران نابالغ کی لاش نالے سے باہر نکلی۔ ر یسکیو ٹیم نے لاش کو باہر نکالا اور پولیس نے اس کی شناخت کی۔ پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔نابالغ کے والد اودھیش نے بتایا کہ جب واقعہ پیش آیا تو وہ ڈیوٹی پر باہر تھے۔ اسی دوران اسے فون آیا کہ اس کا بیٹا نالے میں گر گیا ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔ کال مو صول ہونے کے بعد وہ فوری طور پر گھر واپس آیا اور جائے وقوعہ پر پہنچا۔ تب سے وہ مسلسل اپنے بیٹے کی تلاش کر رہا ہے۔
اودھیش نے کہا کہ واقعے کے بعد سے اس کی بیوی مسلسل انتظامیہ اور ریسکیو ٹیم سے اپنے بچے کو تلاش کرنے کی التجا کر رہی تھی۔ گھر والوں کو امید تھی کہ شاید ان کا بیٹا کہیں مل جائے گا۔ خاندان کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب چار دن کی تلاش کے بعد منگل کو ان کے بیٹے کی لاش ملی۔حادثے کے بعد جسولا گاو ¿ں کے رہائشیوں نے کھلے نالے کی حفاظت پر سوال اٹھایا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بڑا نالہ فلڈمحکمہ کے تحت آتا ہے۔ نالے کو اوپر سے سیل نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کے ارد گرد مناسب رکاوٹیں لگائی گئی تھیں۔ لوگ بھی اس راستے سے میٹرو اسٹیشن کی طرف آتے جاتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں ریلنگ بھی نہیں لگائی گئی جس کی وجہ سے حادثے کا خطرہ برقرار رہتا ہے ۔واضح رہے کہ وزیر اعلی ریکھا گپتا نے چیف سکریٹری کو اس معاملے میں ذمہ دار افسر کے خلاف کاررو ا ئی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے بعد متعلقہ جونیئر انجینئر (جے ای) کو معطل کر دیا گیا۔دلچسپ یہ ہے کہ اس معاملے میں منتخب نمائندوں کے درمیان الزام تراشی کا دور چلا ،اپوزیشن لیڈروں نے انہیں ذمے دار بھی ٹھہرایا ۔
No Comments: